Tuesday, 27 October 2015

میڈیا میک اپ 
(تحریر - شازمینہ شہوار)

بہت سے لوگ میڈیا میک اپ کو ایک پُراسرار فن سمجھتے ہیں اور کیوں نہ سمجھیں کہ آج ہمارا میڈیا اس حد تک آزاد ہو چکا ہے کہ میڈیا اسکرینز پر آنے والی ہماری اداکارائیں جہاں ہمیشہ سے خوبصورت اور دلکش دکھنے  کے لیئے میک اپ کرتی نظر آتی ہیں تو وہیں مرد حظرات بھی میک اپ کے معاملے میں خواتین سے پیچھے نہیں یہاں تک کہ  اب وہ بھی میک اپ کرانے کے بعد اسکرینز پر نمودار ہونا پسند کرتے ہیں
تو آئیے جانتے ہیں یہ میڈیا میک اپ اور کون کون سے فارمولے اور راز اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے ہے

یہ تو ہم سبھی جانتے ہیں کہ آج ٹیلی ویژن پر آنے والے ہر شخص کو اسکرینز پر نمودار ہونے سے پہلے میک اپ کرانا ہوتا ہے کیونکہ کوئی بھی شخص جو میڈیا اسکرینز پر آنا چاہتا ہو چاہے وہ کسی اور روپ، شکل یا بھیس میں آنا چاہے یا پھر اپنی اصل شکل و صورت کے ساتھ ، دونوں صورتوں میں میک اپ کرانا ایک ظروری عمل ہے وہ اس لیئے کہ اگر کوئی چہرہ میک اپ کے بغیر اسکرین پر آنا چاہے گا تو اس کا اصل رنگ و روپ کیمرے کی تیز روشنی کے سبب اپنی اصلیت کھو بیٹھے گا یہی وجہ ہے کہ میک اپ کرنے والے آرٹسٹ چہرے کے رنگ میں تناسب  پیدا کرنے کے لیئے میک اپ کرتے ہیں اسکے علاوہ میک اپ کی دوسری وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ ہر انسانی چہرے پر ایک قدرتی چمک موجود ہوتی ہے جو میک اپ کے بغیر تصویرکشی میں اور بالخصوص تیز روشنی میں انسانی چہرے پر کیا جانے والا کیمرے کا فوکس تصویر پر مرتب ہونے والے نتائج کی صورت میں اصل چہرے سے پوری طرح مطابقت نہیں رکھ پاتا جسکی وجہ سے انسانی چہرے کی قدرتی چمک کو زائل کرنے کے لیئے میک اپ کیا جاتا ہے یوں میک اپ کی بدولت انسانی چہرے کی تصویر اپنے نتائج میں اس قدرتی چمک کو محفوظ رکھتی ہے جو چہرے پر موجود ہوتی ہے- چونکہ میڈیا پر اب لائٹنگ کے مکمل اور خود مختار شعبے موجود ہیں لہزا میک اپ کے مطابق روشنی کے تمام تر انتظامات پروڈیوسر سر انجام دیتا ہے اور یہ بات اب کسی رسم و رواج کے زمرے میں نہیں آتی بلکہ تصویر کشی کی روشنی ایک ضرورت بن گئی ہے ایک ایسی ضرورت جو بہترین نتائج مرتب کرنے کا باعث بنتی ہے

میک اپ کی دنیا میں میک اپ مین ایک اہم کردار ادا کرتا ہے جو مختلف رنگ اور خاص میٹریل استعمال کر کے متزکرہ نظریہ یا خیال کو تقویت دینے کا باعث بنتا ہے- مثال کے طور پر میک اپ کا عمل شروع کرنے سے پہلے میک اپ مین کے لیئے ضروری ہے کہ وہ یہ جانے کہ جس چہرے کا وہ میک اپ کر رہا ہے وہ کیسا ہے اور اس کے مطابق اسے کیسا میک اپ کرنا چاہیے؟ کیونکہ اگر چہرے کی قسم کے مطابق میک اپ نہیں ہوگا تو اس کے نتائج ا تنے صاف اور واضح نہیں ہونگے جتنا کے اسے ہونا چاہیں اس لیئے میک اپ مین میک اپ شروع کرنے سے پہلے یہ دیکھتا ہے کہ آیا جس چہرے کا وہ میک اپ کرنے والا ہے وہ بیضوی چہرہ ہے ، کتابی چہرہ ہے ، چکور چہرہ ہے ، تکون چہرہ ہے ، لمبوترا چہرہ ہے یا پھر ڈائنمڈ چہرہ ہے- میک اپ کے نقطئہ نظر سے بیضوی چہرہ سب سے اچھا ہوتا ہے اور اس پر میک اپ کرنا نسبتا آسان ہوتا ہے- سب سے مشکل میک اپ ڈائمنڈ چہرہ کا ہوتا ہے اس چہرہ میں پیشانی تنگ ، رخسار پچکے ہوئے اور آنکھیں اندر کو دھنسی ہوئی ہوتی ہیں اس چہرہ کا میک اپ کرنا چونکہ مشکل ہوتا ہے اس لیئے میک اپ مین بھی بہت احتیاط سے اس چہرے کا میک اپ کرتے ہیں تا کہ اس کے نتائج صحیح اور شارپ نکلیں" لیکن یہاں پر یہ بات قدرے اہم ہے کہ میک اپ کسی بھی قسم کا ہو وہ اس بات کا تقاضہ کرتا ہے کہ نہ صرف صحیح شیڈ استعمال کیئے جائیں بلکہ ان کا استعمال بھی درست کیا جائے- بقول میک اپ کے ماہر ڈک اسمتھ ( جنہیں میک اپ کے میدان میں استاد مانا جاتا ہے ) اور ٹیلیوژن پروڈکشن تکنیک کے ایک اہم مصنف روڈی برٹز میک اپ کے مقاصد بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ

1.

ٹیلی ویژن میک اپ کا مقصد کسی بھی شخص کا صحت مند نظر آنا ہے اور جہاں ضرورت محسوس ہو جلد کو خوبصورت بنانا ہوتا ہے لیکن چہرے میں کوئی بنیادی تبدیلی کرنا مقصد نہیں ہوتا بلکہ چہرے کو تروتازہ دکانے کے لیئے میک اپ کیا جاتا ہے

2.
 جس طرح خواتین میک اپ کر کے خود کو جاذب نظر اور خوبصورت بناتی ہیں بلکل اسی طرح کیمرے کی اسکرین پر بھی میک اپ مین انکی خوبصورتی میں اضافہ کرنے کے لیئے میک اپ کرتا ہے جیسے بہت کھلا ہوا منہ  یا بڑے جبڑے میک اپ کی مدد سے مناسب نظر آئیں- بہت چھوٹی آنکھیں بڑی نظر آئیں ، لمبا چہرہ اتنا لمبا نظر نہ آئے وغیرہ وغیرہ یا پھر یہ کوشش کی جاتی ہے کہ ہر چہرہ خوبصورتی کے تخیل کے قریب قریب ہو

3.
 عمر میں تبدیلی دکھانا بھی میڈیا میک اپ کا ایک مقصد ہوتا ہے مثال کے طور پر کسی نوجوان کو میک اپ کے ذریعے بوڑھا دکھا دینا یا پھر کسی ادھیڑ عمر کی خاتون یا مرد کا میک اپ کچھ اس طرح کرنا کہ وہ اپنی اصل عمر کے مقابلے دکھنے میں کم عمر یا چھوٹا نظر آئے -جیسا کے ایسے میک اپ کی ضرورت بلعموم ڈراموں میں پڑتی ہے

4.
  روشنی کے اثرات اور روشنی کی مناسبت و موزنیت کے لیئے بھی میک اپ کیا جاتا ہے

5.
 کردار سازی کے لیئے جس سے کسی شخص کی عمر ، نسل ، رنگ میں تبدیلی کی ضرورت یا تقاضے کو پورا کرنا ہو میک اپ کا ایک مقصد تصور ہوتا ہے

میک اپ کی قسمیں
1- 
:سیدھا سادہ میک اپ
چہرے کی قدرتی چمک کو ختم کرنے کے لیئے کیا جاتا ہے- میک اپ مین اس میک اپ کے ذریعے چہرے میں یکسانیت پیدا کرتا ہے بلعموم بیضوی چہرے پر اور انٹرویو کے لیئے ٹیلی ویژن کی اسکرین پر پیش کیئے جانے والے افراد کا میک اپ متزکرہ قسم کا ہوتا ہے جس سے چہرے میں تناسب قائم کرنے کے لیئے ہلکا سا ٹچ اپ کیا جاتا ہے

2- 
:اصلاحی میک اپ
چہرے کے عیب دور کرنے کے لیئے کیا جاتا ہے اس میک اپ کے ذریعے چہرے کے کیل مہاسے اور دانے ختم کیئے جاتے ہیں جیسے کہ پچکے ہوئے گالوں کو ابھار دیا جاتا ہے - لمبی ٹھوڑی والے چہرے کو میک اپ کے ذریعے اس طرح بنا دیا جاتا ہے کہ چہرہ اسکرین پر اتنا لمبا نظر نہ آئے- اصلاحی میک اپ سیدھا سادھے میک اپ کے مقابلے میں مشکل ہے یہ میک اپ بلعموم اناونسر ، کمپیئرز ، آرٹسٹ اور سنگرز کے کیا جاتا ہے

3- 
:کریکٹرمیک اپ
یہ میک اپ مختلف کرداروں کی تشکیل کے لیئے کیا جاتا ہے بلعموم ڈراموں میں حصہ لینے والے فنکاروں کا کریکٹر میک اپ کیا جاتا ہے کسی کو اپنی عمر سے بڑا دکھانے کے لیئے چہرے پر داڑھی سجا دی جاتی ہے یا چہرے پر میک اپ کے ذریعے جھرٰیاں ڈال دی جاتی ہیں گویا جس قسم کا ڈرامے میں کسی فنکار کا کردار ہوگا میک اپ مین اسی کے مطابق میک اپ کے ذریعے اس کی شکل ، رنگ ، نسل اور عمر میں تبدیلی کرے گا اور یوں میک اپ کے بعد وہ فنکار اسی طرح نظر آئے گا جس طرح ڈرامے میں اسے پیش کرنا مطلوب تھا - یہ میک اپ بھی خاصہ مشکل ہے
پہلی دو قسموں کے میک اپ کے لیئے پروڈیوسر میک اپ مین کو اسکرپٹ نہیں دیتا لیکن کریکٹر میک اپ کے لیئے پروڈیوسر میک اپ مین کو اسکرپٹ دیتا ہے- میک اپ مین اسکرپٹ پڑتا ہے اور اسکرپٹ کے بعد کردار کی جو شکل اس کے ذہن میں بنتی ہے وہ پروڈسر سے اس پر گفتگو کرتا ہے اور جب دونوں میں اتفاق ہوجائے تو وہ فنکار کا کریکٹر میک اپ کرتا ہے- ہر میک اپ آرٹسٹ اپنے مزاج کے مطابق میک اپ کرتا ہے اور ظاہر ہے کہ میک اپ کے لیئے میک اپ آرٹسٹ کی جمالیاتی حس خاص اہمیت رکھتی ہے اور کریکٹر میک اپ میں جمالیاتی حس کا ہونا بہت ضروری ہے
بلیک اینڈ وائٹ ٹیلی ویژن کے لیئے سبز رنگ ، گہرا رنگ اور بھورے رنگ کا شیڈ کالا آتا ہے اور اس کا رزلٹ مٹیالے یا فاختہ کے رنگ کا ہوگا اور اگر رنگ گہرے استعمال کیئے گئے ہیں تو رزلٹ بھی گہرا مٹیالہ ہوگا رنگ استعمال کرتے وقت آرٹسٹ کا ذہن اس کا تجربہ اور جمالیاتی حس تینوں کو بہت اہمیت حاصل ہوتی ہے- رنگین تصویر کشی یا رنگین ٹیلی ویژن کے لیئے قدرتی رنگ استعمال کیئے جاتے ہیں اس میں کریکٹر میک اپ اور ذیادہ مشکل ہوتا ہے
میک اپ آرٹسٹ چہرے کی رنگت کے مطابق اس کی بنیاد بناتا ہے وہ سیٹ کے بیک گراؤنڈ ،لباس کے رنگ اور شیڈ،روشنی اور روشن کرنے والے ڈاٰئریکٹر کے مزاج کو ملحوظ رکھ کر میک اپ کرتا ہے-لیبارٹری میں فلم انچارج اور لائٹ ڈائریکٹر کے مشورے سے میک اپ کیا جاتا ہے-دوسرے ممالک میں سیٹ ڈیزائنر ، لباس کے ماہر ، روشنی کے ماہر ، پروڈیوسر اور میک اپ آرٹسٹ کی میٹنگ ہوتی ہے جس میں یہ طے کیا جاتا ہے کہ کس فنکار کا میک اپ کس قسم کا ہوگا-میک اپ کی بنیاد کے بعد ہائی لائٹس اور پھر شیڈو کا مرحلہ آتا ہے یعنی بنیاد بن گئی توجس جگہ کو ابھارنا مقصود ہو اسے میک اپ میٹریل سے ابھارا جاتا ہے اسی کو ہائی لائٹس کہتے ہیں اور اگر چہرے پر کسی ابھری ہوئی جگہ کو دبا دیا جائے تو اسے شیڈو کہیں گے-میک اپ آرٹسٹ  میک اپ کے لیئے بنیاد اور ہائی لائٹس میں ہونے والے رنگوں اور ان کے تناسب کو لکھتا جاتا ہے-ایسے کرداروں کیلئے جو کسی مسلسل کہانی یا ڈرامے میں حصہ لے رہے ہوں ان کا میک اپ کرتے وقت وہ شیڈنگ لکھ لیتا ہے-یہ بھی لکھ لیتا ہے کہ کون سا شیڈ چہرے کے کس حصے پر استعمال کیا گیا ہے-میک اپ کے بعد فنکار کی تصویر کے تین پوز میک اپ آرٹسٹ اپنے پاس رکھتا ہے تاکہ جب دوسری دفعہ اسی فنکار کا سلسلہ وار کہانی کے لیئے میک اپ کرے تو تصویروں کے پوز کے ساتھ
 میک اپ کا موازنہ کیا جاسکے-میک اپ آرٹسٹ کا حافظہ اور باقاعدہ طور پر استعمال ہونے والے شیڈ اور دوسرے فنی معاملات کو تحریر کرنے کےلیئے عمل  کے علاوہ فنکار بھی میک اپ مین کے لیئے معاون ثابت ہوتا ہے
مغربی ممالک میں میک اپ ڈیزائنگ ہوتی ہے- میک اپ آرٹسٹ پہلے تصویر پر میک اپ کرتا ہے اس پر جب صحیح رزلٹ آجائے تو پروڈیوسر، روشنی کے ماہر، لباس کے ماہر اور سیٹ ڈیزائنر کی ایک میٹنگ میں تصویر کے مطابق میک اپ کا فیصلہ طے پاتا ہے اسکے بعد میک اپ آرٹسٹ اصلی میک اپ کرتا ہے - ہر ایک فنکار کے بارے میں میک اپ کے لیئے ہسٹری شیٹ کھولی جاتی ہے کہ کون کون سے آرٹسٹ کس کس کردار کے لیئے موزوں ہو سکتا ہے- میک اپ آرٹسٹ کو اگرچہ پروڈیسر اپنی ضرورت سے آگاہ کرتا ہے مگر اس کے لیئے ضروری ہے کہ وہ تاریخ کا گہرا مطالعہ رکھے اور کسی تاریخی کردار کے میک اپ کے لیئے چہرہ لباس اس کے پیش نظر رکھنا چاہیے- سیدھے سادھے میک اپ کے لیئے دس سے بیس منٹ کا وقت چاہیئے ہوتا ہے جبکہ اصلاحی میک اپ پر آدھہ گھنٹہ    اور کریکٹر میک اپ کے لیئے دو گھنٹے تک کا وقت درکار ہوتا ہے - بشرطیکہ میک اپ کا سارا سامان اور دوسری متعلقہ سہولتیں موجود ہوں

:میٹریل کے اعتبار سے میک اپ کی دو قسمیں ہوتی ہیں
1- 
گریسی میک اپ - یہ میک اپ خشک جلد کے لیئے کیا جاتا ہے
2-
 واٹر پلائی میک اپ- یہ میک اپ چکنی جلد کے لیئے جاتا ہے 

 کریکٹر میک اپ میں چونکہ مختلف شیڈ دینے ہوتے ہیں اس لیئے وہاں واٹر پلائی میک اپ نہیں کیا جاتا اور نہ ہی وہ اچھا لگتا ہے ویسے تو ٹیلی ویژن کے لیئے کیا جانے والامیک اپ عام دیکھنے میں خوبصورتی میں اظافہ نہیں کرتا بلکہ ممکن ہے بد صورتی کا باعث بن جائے - میک اپ کرتے وقت میک اپ آرٹسٹ کو اس بات کا خیال رکھنا ہوتا ہے کہ اگر روشنی ہلکی ہے- فنکار کے کپڑے ہلکے رنگ کے ہیں تو میک اپ بھی ہلکا ہوگا اور گہری روشنی - گہرے رنگ کے کپڑوں کی صورت میں میک اپ گہرا ہوگا- میک اپ آرٹسٹ کو اس بات کو بھی پیش نظر رکھنا پڑتا ہے کہ بعض فنکاروں کی جلد بہت حساس ہوتی ہے اور میک اپ میں استعمال ہونے والے بعض کیمکلز ان کے لیئے تکلیف دہ ہوتے ہیں مثلا میک اپ کے بعد جلد یا چہرے پر جلن شروع ہوگئی- کسی پاوڈر وغیرہ کے استعمال سے خارش شروع ہوگئی- ایسی صورت میں ظاہر ہے فنکار اپنے فن کا اچھی طرح مظاہرہ نہیں کرسکے گا- چناچہ جو فنکار جس کیمکلز سے الرجک ہو یا جس کی جلد کسی کیمیکلز کے استعمال میں حساس ہے تو میک اپ آرٹسٹ اسے استعمال نہیں کرتا-میک اپ کرانے یا کرنے کے بعد اسے اتارنے کی ذمہ داری بھی میک اپ آرٹسٹ پہ ہوتی ہے-اگر فنکار خود میک اپ اتارنے کی کوشش کرے تو اس سے جلد خراب ہوسکتی ہے-اسلئیے میک اپ آرٹسٹ فنکار کا میک اپ اتارنے کے بعد میک اپ اتارنے لوشن وغیرہ استعمال کرتے ہیں-بقول بروس لیوس اپنی کتاب تکنیک آف ٹیلی ویژن میں لکھتے ہیں کے میک اپ کا عمل اس وقت تک مکمل نہیں ہوجاتا جب تک وہ اس میک اپ کو اتار نہ لے گویا میک اپ کرنے کا آخری مرحلہ میک اپ اتارنا ہے اور یہ میک اپ ٹیلی ویژن پر اپنے کردار کی ادائیگی کے فورا بعد اتاردینا چاہیئے کیونکہ زیادہ دیر میک اپ رکھنے سے چہرے پر ان کیمیکلز کے جو میک اپ میں استعمال ہوئے منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں





اپنی راہوں میں بچھے کانٹے کسے اچھے لگتے ہیں مگر ہم خود بھی تو باز نہیں آتے  کسی اور کی راہوں میں کانٹے بچھانے سے

شازمینہ شہوار
ضروری نہیں ہے کہ جو چیز ہمیں دکھنےمیں اچھی لگ رہی ہو وہ حقیقت میں بھی اتنی ہی اچھی لگے 

شازمینہ شہوار
چیزیں اتنی آسان نہیں ہوتیں جتنا کہ ہمیں نظر آرہی ہوتی ہیں لیکن اتنی مشکل بھی نہیں ہوتیں جتنا کہ ہم انہیں بنا دیتے ہیں

شازمینہ شہوار 


Wednesday, 14 October 2015




ہر  لکھی  ہوئی  تحری  قاری  نہیں  سمجھ  سکتا  کیونکہ  لکھنے  والا  احساس  لکھتا  ہے  اور  قاری  صرف  الفاظ  پڑھتا  ہے.

Monday, 5 October 2015

یہ جوالفاظ ہوتے ہیں نہ انکا چناؤ ہمیشہ بہت سوچ سمجھ کر کرنا چاہیے کیونکہ ایک وقت آتا ہے جب یہی الفاظ آپکو وآپس لوٹا دیئے جاتے ہیں

شازمینہ شہوار
بعض لوگ اوپر سے کتنے سرد اور روکھے دکھائی دیتے ہیں لیکن اندر سے اتنے ہی نرم اور حساس ہوتے ہیں صرف ایک خول ہوتا ہے جو انھوں نے لوگوں کو دکھانے کے لیئے اپنے اوپر چڑھایا ہوا ہوتا ہے- جسے پرکھنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں ہوتی
/
شازمینہ شہوار 
زندگی میں بہت سی چیزیں ہمارے اختیار میں نہیں ہوتیں 
ہم چاہ کر بھی انہیں حاصل نہیں کر پاتے

شازمینہ شہوار   


ایسا لگتا ہے کہ جیسے دنیا کے سارے مرد ہی ایک جیسے ہوں- وہ ظاہری طور پر 
کتنے ہی آزاد خیال کیوں نہ ہوں اندر سے اتنے ہی تنگ نظر ثابت ہوتے ہیں
/
شازمینہ شہوار



Tuesday, 28 April 2015


"آج کا آزاد میڈیا"


 میڈیا بظاہرسننےاورلکھنےمیں ایک چھوٹا سا لفظ ہے لیکن پوری دنیا کے کونے کونے میں پیھلا ہوا ہے- میڈیا لوگوں تک معلومات فراہم کرنے کا ایک اہم ذریہ ہے یوں تو میڈیا کی بہت سی اقسام ہیں جس میں پرنٹ،الیکٹرانک،سوشل میڈیا یہ سب آتے ہیں-
اگر ہم بات کرتے ہیں آج کے میڈیا کی تو آج کا میڈیا اتنا  آزاد ہو چکا ہے کے وہ اپنی حدود کو بھلا بیٹھا ہے- اتنا زیادہ روشن خیال ہوچکا ہے کے اب وہ غلط کو غلط ہی نہیں سمجھتا کے کس طرح کے واہیات پروگرامز ٹیلی ویژن پر دکھاۓ جارہے ہیں کے جس میں بےحیائی کی باتیں عام ہوچکی ہیں- ایک پڑھا لکھا انسان اپنی فیملی کے ساتھ بیٹھ کر ٹیلی ویژن  دیکھنے سےکتراتا ہے- یہی نہیں بلکے ٹیلی ویژن پر اپنے چنیل کی ریٹنگ بڑھانے کےلیے بےحیائی دکھانے لگتے ہیں- آج کا میڈیا اتنا آزاد ہوچکا ہے کے خواتین کے سر سے ڈوپٹہ تک اتر گیا اور اس کے علاوہ میڈیا کسی بھی مخصوص شخصیت کی پرسنل لائف کو اتنا زیادہ ہائی لائٹ کر دیتا ہے کے لوگ بھی ان پرباتیں بنانے لگتے ہیں اور انکے لیۓ اپنے ذہن میں اپنی ایک اچھی یا بری رائے قائم کرلیتے ہیں-
آج کل تقریبآ ہر چینل پر کوئی نہ کوئی کرائم پروگرام دکھایا جارہا ہے- جسمیں قتل اور واردات کے طریقے بتاۓ جارہے ہوتے ہیں کہ جو کریمنل ان سے واقف نہ بھی ہو تو وہ بھی ان نت نئے طریقوں سے واقف ہوجاتا ہے-
سوشل میڈیا بھی میڈیا کی ایک اقسام ہے جس میں فیس بک، ٹویتٹر  یہ سب شامل ہیں- اور آج کی نوجوان نسل پر سوشل میڈیا کا بہت گہرا اثر پڑھ رہا ہے-
میڈیا کو اس بات کا خیال رکھنا چاہیے  کے وہ کس طرح کے واہیات ڈرامے اور پروگرامز دکھا رہے ہوتے ہیں جسکا بچوں کے چھوٹے چھوٹے  زہنوں پر گہرا  اثر پڑھتا ہے-
ایک مسلم معاشرے میں رہتنے ہوئے میڈیا کو اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کے وہ ایسے پروگرامز دکھاۓ کہ جس سے  بچوں اور بڑوں دونوں کی معلومات میں اضافہ ہو- جس میں ہمارے مذہب اور کلچر کو دکھایا جاۓ- 


Monday, 27 April 2015

     

                      موسم گرما کا جنت نظیر پھل 

     الله تعالیٰ نے انسان کو غزا کی صورتوں میں جو نعمتیں عطا کی ہیں اگرچہ ان کی کوئی حد نہیں. بلاشبہ اس کی ہر نعمت اپنی تاثیر اور اہمیت رکھتی ہے. یہ تمام نعمتیں اپنے حجم، زائقہ اور تاثیر سے الگ الگ ہوتی ہیں. ان سب نعمتوں میں بہت سارے پھل بھی شامل ہیں. ہر پھل ایک دوسرے سے اشکال میں مختلف ہوتے ہیں بلکہ ان سب کا ذائقہ اور تاثیر بھی باالکل مختلف ہوتے ہیں. جو صرف الله پاک کی قدرت کا ایک عطیہ ہے. ان بےشمار پھلوں میں ہم جس پھل کا تذکرہ کر رہے ہیں اس کو "آم" کہتے ہیں. "آم" پھلوں کا بادشاہ کہلاتا ہے.
        

"آم" وہ  پھل ہے جو ہر عمر کے لوگوں میں خواہ کوئی بچہ، جوان یا بوڑھا ہو بےحد پسند کیا جاتا ہے اور شاید اس طرح بھی کہہ سکتے ہیں کہ آم وہ پھل ہے جو شاید دنیا میں کسی کو بھی ناپسند نہیں ہوگا. الله پاک کے فضل و کرم سے وطن عزیز میں بھی آم کی بےشمار اقسام پائی جاتی ہیں. یہ پھل پاکستان میں مئی کے وسط سے تقریبآ ستمبر تک پایا جاتا ہے اور اس پھل کی خصوصیت یہ بھی ہے کے ہر پھل فروش کے پاس یا ہر ٹھیلے پر آم ہی آم نظرآتا ہے. ویسے تو آم کی بےشمار اقسام ایسی ہیں جن کے عام لوگوں کو نام بھی نہیں معلوم لیکن چند بہت مشہور اقسام ذیل میں ہیں. شروعات میں
"لنگڑا" ، "سندھڑی" اور "سرولی" آتا ہے. "لنگڑا آم" خاص و عام میں اتنا زیادہ پسند نہیں کیا جاتا اس کا زائقہ ترش ہوتا ہے. جبکے "سندھڑی آم" شوق سے کھایا جاتا ہے اور اس کا جوس بنا کر خوب پیا جاتا ہے جوس کے لئے یہ آم بہت موضوع سمجھا جاتا ہے. "سرولی آم" بھی خاص و عام میں بہت پسند کیا جاتا ہے.
         ویسے تو آم ہی پھلوں کا "بادشاہ" ہے مگر جب "چونسا آم" آتا ہے تو آم کی تمام اقسام کا "بادشاہ" کہا جاتا ہے. "چونسا آم" ہر خاص و عام میں بہت مقبول ہوتا ہے اور بہت ذوق و شوق سے کھایا جاتا ہے اور یہ کافی دیر تک رہتا ہے. خاص طور پر ملتان کا چونسا بہت میٹھا اور ہر دل عزیز آم کہلاتا ہے. سیزن کے آخر میں "انوراتول  آم" آتا ہے وہ بھی خاص و عام میں بہت مقبول ہے. ویسے تو آموں کی اور اقسام میں "دسیری" ، گلاب پاس" ، طوطاپری" اور "تخمی" اقسام ہیں. جو زیادہ مقبول نہیں ہیں. آم کے موسم میں بازاروں میں آموں کی بہار ہوتی ہے. ہر طرف آم ہی آم نظر آتے ہیں، ہر گھر میں آم ہوتے ہیں. آم وہ واحد پھل ہے جو زمانہ قدیم سے اپنے عروج پر ہے "مغل بادشاہوں" نے بھی اس کی تعریف میں بہت کچھ کہا ہے اور "شاعروں" نے بھی اپنے اشعار میں بھی اس کا تذکرہ کیا ہے. مختصر یہ کہ آم اپنے ذائقے تاثیر اور افادیت کی وجہ سے پھلوں کا "بادشاہ" کہلاتا ہے.

Friday, 24 April 2015

Things to know about your stars

Aries are known for their strong will power. Aquarius are loyal , friendly and sensitive . sagittarians are optimistics and spiritual. Gemimni are often believed as dual natured.cancers are emotional and capricons want to climb high.
But the most important thing is these stars , their traits has nothing to do with our personality. What we are and who we are is the result of our DNA and the experience of surrounding. But if we still think that our personalities somehow matches these traits then its merely a coinsidence.

Saturday, 11 April 2015

پودوں سے مزے کا مزه، دواکی دوا

    ایک جهاڑی دار پودا جسے ہم لیمن گراس کے نام سے جانتے ہیں. یہ بہت ہی خوبصورت اور دلکش معلوم ہوتا ہے. مزے کی بات تو یہ ہےکہ اس کے پتوں کو عام طور پر اکژ لوگ چائے کے قہوہ کے طور استعمال کرتے ہیں جس کو ایک ذائقے دار مشروب بهی کہا جاسکتا ہے اور اس پودے کے یہی پتے دوا کے طور پر بهی استعمال کئے جاسکتے ہیں. جس میں بےشماربیماریوں کے بےپناہ فوائد منسلک ہیں.
  
     یہ خوبصورت پودا آپ اور ہم آسانی سے گهر کے باغیچے میں یا کسی گملے میں لگاسکتے ہیں اور ذائقے کے ساته ساته بےشمار فوائد بهی حاصل کرسکتے ہیں. طبی نقطہ نظر سے لیمن گراس کا سب سے بڑا فائدہ سرطان(cancer) جیسے مرض میں بهی مفید ہے. اس کے علاوہ کچه دوسرے مرض جیسے پیٹ میں گیس کا بننا، آنتوں میں گیس کو بهرنے سے روکنے میں مواون ہے. ہائی بلڈپریشر کو کم کرنے کےلئے لیمن گراس کا جوس استعمال کیا جاتا ہے. اس جوس کو چہرے کی دلکشی کے لئے اور کیل مہاسوں کو کم کرنےکے لئے بهی استعمال کیاسکتا ہے.اس گراس کے استعمال سے جسم میں زیادہ چربی کم کرنے میں بهی مدد ملتی ہے. گرمی کو کم کرنے کےلئے بهی اس کا جوس استعمال کیا جاتا ہے. اس کےعلاوہ لیمن گراس سے تیل بهی بنایا جاسکتا ہے جس سے بےشمار فوائد ہیں. یہ تیل جوڑوں اور پٹهوں کےدرد کےلئے بہت مفید ہے.
   لیمن گراس ایک خوشبودار پودا ہے اگر اس پودے کو گهر کے باورچی خانےمیں رکه دیا جائے تو مچهروں سے بهی چهٹکارہ حاصل ہوسکتا ہے. اس کے پتے ایک خوشبودار جڑی بوٹی کا درجہ رکهتے ہیں جسے عام طور پر مصالحے کے طور پر بهی استعمال کیا جاسکتا ہے. اس کے پتوں میں مہک ہوتی ہے. اس کے پتوں کو ابلتے ہوئے پانی میں ڈال کر اس میں چند چهوٹی الائچی ڈال کر خوب پکائیں تو بہترین قہوہ تیار ہے. اس کو پی کر آپ کی طبعیت بحال ہوجائےگی اورتهکن دور ہوجائے گی اوراگر اس میں چینی کی بجائے شہد ملاکر پینے سے فلو اور بخار ختم ہوجاتا ہے. کهانسی کم ہوجاتی ہے لیمن گراس کا سوپ بهی بنایا جاسکتا ہے. اس کو بنانے کےلئے یخنی بناکر اس کے چند پتے ڈال کر مزید پکالیں پهر ذائقے دار اور مفید سوپ پئیں. چاولوں کو دم دیتے وقت لیمن گراس کے پتے ڈالنے سے جب چاولوں کا ڈهکنا ہٹتا ہے تو ہر سو خوشبو پهیل جاتی ہے.
   ایک چهوٹا سا پودا جو دیکهنے میں بهی حسین اور اس قدر فائدے دیکه کریہ کہنے میں کوئی عار نہیں کے لیمن گراس مزے کا مزه اور دوا کی دوا ہے. ان سب فوائد کو مدّنظر رکهتے ہوئے ہم اگر عام زندگی میں لیمن گراس کا استعمال شروع کردیں تو اس کے بڑے مثبت نتائج نکلیں گے مثلاََ: ہم روزمرہ زندگی میں چائے کا  استعمال کرتے ہیں جوس اور سوپ بهی پیا جاتا ہے اس طرح کهانا پکانا بهی روزآنہ کا معمول ہے اگرچہ ہم اس روزمرہ کے کهانے میں، چائے، جوس اور سوپ میں لیمن گراس کو استعمال کرنا شروع کردیں تو ہمیں ایک بہترین اور منفرد ذائقہ بهی حاصل ہوگا اور کئ بیماریوں سے بهی اگرچےنجات حاصل نا ہوسکی مگرکمی ضرور واقع ہوگی. کسی بهی چیز کی افادیت کو پرکهنے کےلئے اس کا پیمانہ تجربہ ہے اور جب ہم یہ تجربہ کریں گے تو ہمیں اس کی حقیقت کا پتاچلے گا کہ آیا یہ چیز ہمارے منہ کے ذائقے اور جسمانی بیماریوں کےلئے کس قدر مفید ہے.

Saturday, 4 April 2015

شازمینہ شہوار

جیک لنڈن

دنیا کا سب سع بڑا ناولسٹ " جیک لنڈن " جسے ایک ہی وقت میں پائریٹ، لولر، باسٹرڈ اور جینیس کہا گیا

جیک لنڈن نے دنیا میں آتے ہی زندگی کے تمام تربھیانک روپ دیکھے جس میں وہ ایک طرف سمندری ڈاکو بھی بنا تو
دوسری طرف ملوں میں کوئلہ جھونکنے والا مزدور بھی - گویا اس نے اپنی آنکھوں سے کچھ یوں دیکھا کہ اسے پلک جھپکانے کا وقت تک نہ مل سکا- ہر لمہہ موت کی پرچھائی اسکے ساتھ ساتھ چلتی تھی جیسے کسی گھنے سایہ دار درخت کا سایہ اس کا کبھی ساتھ نہیں چھوڑتا بلکل اسی طرح اس نے بھی ہر لمحہ موت کو اپنے بہت قریب محسوس کیا بالاآخر بے بس ہو کر اس نے اپنے ہاتھوں میں قلم تھام لیا- جیک نے سمندر کے کئی حادثوں کو کہانیوں میں قلمبند کیا اور ان کہانیوں کو اخبار میں چھپنے کے لیئے بھیج دیا اور یوں اسکے لیئے رفتہ رفتہ مستقبل کے دروازے وا ہونے لگے- کل تک جن اخبارات میں اسکے جینے مرنے کی خبریں چھاپی گئیں انھیں اخبارات نے اپنے صفحات اسکی تصویروں سے بھر دیئے اور جن گاڑیوں میں وہ بلا ٹکٹ سفر کرنے پہ پکڑا جاتا تھا انھیں گاڑیوں سے اترتے لوگوں نے اسے خشامدید کہا- ایک وقت ایسا بھی آیا جب جیک لنڈن کو امریکہ کا کارل مارکس کہا جانے لگا- اکتیس سال کی عمر تک جیک کی تقریبا کوئی چالیس کتابیں شائع 
ہو چکی تھیں جس میں مارٹن ایڈن ، دا سی ولف ، آئرن ہیل اور دا کال آف دی وائلڈ شامل ہیں







 جیک کا ایک خواب تھا کے وہ ایک قلعہ نما پہاڑی گھر بنوائے جس کے تئیس کمرے میں دنیا بھر کے فنکاروں کو مہمانوں 
کے طور پر ٹھرایا جائے- وہ ایک نہایت ہی فراخ دل اور خوش مزاج انسان تھا جس   کے بارے میں یہ کہا جاتا تھا کہ

 جس طرح کی مسکراہٹ اس کی ہونٹوں پر تھی اگر ایسی کسی کی پادری کے  ہونٹوں پر ہوتی تو ساری دنیا مزہبی ہوجاتی 

جیک نے اپنے پہاڑی نما گھر پر تقریبا اسی ھزار ڈالر خرچ کیئے اور جس صبح اس کو وہاں رہنے کے لیئے جانا تھا اس رات نجانے کیے اس کے گھر کو آگ لگ گئی- جیک اپنی آنکھوں کے سامنے اپنے گھر سے اٹھتے شعلے دیکھتا رہا اور  اپنے گھر کو بچانے کے لیئے کچھ بھی نہ کر سکا - نجانے کس نے حسد اور دشمنی کی آڑ میں اس سے اس کا گھر چھین لیا تھا- یہ وہ دن تھا جس دن جیک کا خواب جل گیا تھا ، اس کا انسانیت پر سے یقین اٹھ گیا تھا لیکن اس نے پھربھی ہمت نہ ہارتے ہوئے یہ لفذ کہے 
" میں وہی شخص ہونا چاہوں گا جسے کوئی آگ نہیں جلا سکتی "

جیک نے زندگی میں دو بار شادی کی اور وہ دونوں بار بہت مایوس ہوا- اسکی شدید خواہش تھی کے وہ کسی سنجیدہ عورت سے شادی کر کے اس سے پیار کرتا لیکن اسکی یہ خواہش کبھی پوری نہ ہوسکی - پھر ایک رات اسکی زندگی میں ایسی آئی جس دن اس نے اپنی زندگی سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیئے روٹھ جانے کا فیصلہ کیا اور اس رات اس نے زھر کھا کر اپنے آپ کو موت کی گھاٹ اتار لیا- یوں ایک قابل شخص نے دنیا کی تلکخ حقیقتوں سے تنگ کر آکر  اپنی زندگی کو خیر باد کہ دیا-   

جیک کو جہاں دفن کیا گیا اس پہ یہ لکھا گیا 
" وہ جسے معماروں نے عمارت میں نصب کرنے سے انکار کر دیا "

Friday, 3 April 2015


 مزے مزے کے  کھانے

الله نے انسان کو بے شمار نعمتوں سے نوازہ ہے- ان تمام نعمتوں میں سے ایک بڑی نعمت "غذا" ہے- غذا یعنی خوراک ایک ایسی نعمت ہے جسکے بغیر انسان کا زندہ رہنا مشکل ہے-
دنیا میں طرح طرح کے کھانے بنائے جاتے ہیں- ہر ملک اپنے اپنے روایتی اور دیسی کھانوں کی نسبت اپنی ایک مخصوص پہچان رکھتا ہے- چین میں چائنیز فوڈز کو زیادہ اہمیت دی جاتی ہے اور اب چائنیز فوڈز  پوری دنیا میں کھایا جاتا ہے اور پوری دنیا کے لوگ اسسے بہت شوق سے کھاتے ہیں-
اسی طرح پاکستانی کھانے بھی اپنی ایک الگ خوشبو اور لذّت کی بنا پر اپنی ایک الگ پہچان رکھتے  ہیں جن میں دیسی کھانے مثلا بریانی، پائے، نہاری، کوفتے لوگوں کی پسندیدہ غذائیں ہیں- یہ ہی نہیں بلکے دوسرے ممالک کے لوگ بھی پاکستانی کھانوں کے شوقین ہوتے ہیں-  اگر بچوں کی بات کی جائے تو وہ جنک فوڈز اور فاسٹ فوڈز کو زیادہ پسند کرتے ہیں جس میں بروسٹ، چکن برگر، زنگر برگر شامل ہیں-
سائنسی تحقیق کے مطابق یہ بات سامنے آئی ہے کے جنک فوڈز اور فاسٹ فوڈز کا زیادہ استعمال نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے-
خواتین میں بھی اب نت نئے اور  مزے مزے کے کھانے بنانے کا  روحجان بڑھتا  جارہا ہے- خواتین کے لیئے نئے نئے کھانے بنانا اب کوئی مشکل بات نہیں اب تو کھانا پکانا نہایت ہی آسان ہوگیا ہے- خواتین اب گھر بیٹهے بیٹهے بھی نت نئے کھانا پکانا سیکھ جاتی ہیں-
کچھ کھانے ایسے بھی ہیں جنھیں اپنوں کے ساتھ کھانے کا ایک اپنا ہی الگ مزہ ہے-جیسے کے" بار بی کیو"-
"بار بی کیو" زیادہ تر لوگ عید کے موقوں پر بناتے ہیں باقاعدہ اس کے لیئے شاندار تقریبات کا انعقاد کیا جاتا ہے اور اسسے اپنے رشتے داروں کے ساتھ انجوایئے کیا جاتا ہے-  

ہمیں الله کی نعمتوں کا شکر ادا کرنا چاہیئے  اور ہمیں رزق کی قدر کرنی چاہیئے-   

Thursday, 2 April 2015

Who Is The Fairest Of Them All....

Use this creme and you'll be fair in just 14 days , use that creme and you'll be fair in just 20 days , and the list goes on.... My question is why in the world everyone (and I am especially talking about girls) wants to be "fair" ? Why " being white" has become a trend ? Why if you have white skin then only you'll be concidered as beautiful.? Does that mean girls with dark skin are ugly..? Then why they are not satisfy with who they are..? Here I am quoting someone's statement that she feels shame of having dark complexion . why.? Its like being dark is a biggest sin that cannot be forgiven.. It's because of this "beautiful society" we live in. Where they make these girls feel sorry and almost ugly about themselves.. Like its their mistake they are born with this complexion.. And not to forget the fairness creme adds , thanks to their you-are-so-ugly concept they just feed in young girls' mind that they can't be "beautiful" without using there rubbish on there skins even if this crap ruin their natural skin.. We have to understand this that everyone is beautiful and no one is perfect. Everyone has something special in them you just need to explore it .. Groom yourself , eat healthy , take care of yourselves and most important just be happy that will automatically make you beautiful. Don't try to be what you are not, we live in Pakistan and here people are of colorful skin this is our beauty don't try to change it just embrace it and you will be the most beautiful.....:)

Sunday, 1 March 2015

ماضی بہتر یا آج 


         جسمانی بیماری کی تشخیص جلد یا دیر سے آخرکار ہو ہی جاتی ہے. اکثر بیماریوں کا علاج بھی ہوجاتا ہے لیکن اقدار، روایات، تہذیب و تمدن کی تباہی کا ازالہ سب کچھ ختم ہونے پر ہی ہوتا ہے.
         آج ہمارے معاشرے میں خصوصاً شہری لوگوں میں صبر، برداشت، قربانی، اخلاق اور کردار جیسی باتیں کم عقلی اور کمزوری سمجھی جانے لگی ہیں. آج کے لوگوں میں عدم برداشت، منہ توڑ جواب ، لاجواب کرنا، بولتی بند کر دینا اور دماغ درست کردینے جیسی عادتیں اپنی کامیابی اور قابل فخر سمجھی جانے لگے ہیں. بے صبری اور عدم برداشت کے ایسے مناظر آپ کے سڑکوں پر روزانہ دیکھنے کو ملیں گے.
         زمانہ ماضی میں بڑوں کی عزت اور احترام والدین کی فرمانبرداری کے مناظر ہم کثرت سے دیکھتے تھے کے والد کے آتے ہی گھر میں سکوت طاری ہوجاتا تھا شور شرابہ کرنے والے بچے خاموش ہوجاتے تھے. بسوں میں نوجوان بوڑھے شخص کو دیکھ کر اپنی سیٹ چھوڑ دیتے تھے اگر کوئی بڑا کسی بچے کے اس کی غلط حرکت پر ٹوکتا تو وہ معافی مانگتے ہوۓ دیکھا گیا. ایک وقت تھا کے بچے گلی میں کنچے یا گلی ڈنڈا کھیل رہے ہوتے تھے تو محلے کے کسی بزرگ کو آتا دیکھ کر دوڑ لگادیتے تھے.
        لیکن آج آپ کسی کو نصیحت کا ایک لفظ کہہ کر دیکھیں تو وہ اپنی اصلاح پر توجہ کے بجاۓ منہ توڑ جوابات کا سلسلہ شروع ہوجاۓ گا. بچوں پر ہی کیا موقوف نوجوان بھی نصیحت کے جملے برداشت نہیں کرسکتے اور نا ہی کسی کے عیب پر خاموشی اختیار کرسکتے ہیں. ماضی میں جس طرح لوگ دوسرے کے عیبوں پر پردہ ڈالتے، غریبوں کی چپ کر مدد کرتے ، غلط بات کو بھی درگزر کرتے اور پڑوسیوں کا خیال رکھتے. مگر اب یہ سب باتیں نا پید نظر آتی ہیں.
        ایسا کیوں ہوا ہے؟ اس رویے کی بہت ساری وجوہات میں سے ایک بڑی وجہ ٹیلی ویژن، موبائل فون اور انٹرنیٹ ہے. جب کے کمپیوٹر، انٹرنیٹ اور موبائل فون یہ سب کو بظاہر مدد دیتے ہیں لیکن یہ آلات نہ انسان کے رہنما اور نہ ہی انسانی صلاحیتوں کا متبادل ہوسکتے ہیں.اب ہمارے نوجوانوں نے اور بچوں  نے اپنا سب کچھ ان آلات کو ہی بنالیا ہے انہیں ان چیزوں سے وقت ہی نہیں ملتا کہ وہ چند منٹ صحیح اپنے بزرگوں کی صحبت میں بیٹھ سکیں. ماضی میں گھر کے پہلے بڑے ابا، چچا، تایا، دادا، دادی، ماں بچوں کے استاد ہوتے تھے اور وہ بچے کی ذہنی صلاحیت کے مطابق اس کی تربیت کرتے تھے اور بچوں کی عمر کے لحاظ سے اسے معلومات دیتے تھے لیکن آج انٹرنیٹ ہی بچوں کا استاد ہی نہی سب کچھ ہوگیا ہے.
        آج کا بچہ اپنے بڑوں کی بجاۓ انٹرنیٹ میں "گوگل" سے کامیاب زندگی گزارنے کے گر پوچھتا ہے. جو معلومات بچے کے والد کو بھی نہیں ہوتی وہ بچے کو انٹرنیٹ سے معلوم ہوجاتی ہیں. اب ماں، خالہ اور بڑی بہن کی بجاۓ "فیس بک" لڑکیوں کی مشیر اور راز دار ہے. ماضی میں ماں باپ بچوں کے آئیڈیل ہوتے تھے لیکن اب فیس بک، ٹوئٹر اور SMS نوجوانوں کی زندگی کا لازمی حصہ بن گۓ ہیں. اب گھر میں جب لوگ ایک ساتھ ہوکر بھی بیٹھتے ہیں تو اجنبیوں کی طرح ایک دوسرے سے لا تعلق ہو کر خاموش بیٹھ کر ٹی وی سکرین تکتے رہتے ہیں. اگرچہ کوئی مہمان بھی کسی کام سے آجاۓ تو وہ بھی گھنٹوں باجماعت ٹی وی کی زیارت کر کے نا مراد گھر لوٹ جاتا ہے.
       حالات خواہ کتنے ہی گھمبیر ہی کیوں نہ ہوں امید کا دامن چھوڑنا گناہ ہے. بہتری کی کوشش کرتے رہنا اللہ اور اس کے رسول حضرت محمّد (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) کا حکم ہے. مسلمان کا ہر آنے والا دن گزرے دن سے بہتر ہونا چاہیۓ. ان اقدامات کے کے لئے بڑوں کو اپنے دل پر جبر کرنا ہوگا ممکن ہو تو ٹیلی ویژن کا عمل دخل کم سے کم کردیں. فون بلاضرورت نہ دیں. کمپیوٹر ایسی جگہ رکھیں جہاں آتے جاتے نظر پڑتی رہے. روزانہ رات کے کھانے پر اکھٹا ہوں اور بچوں سے ان کے پورے دن کی مصروفیات پر بات کریں. بچوں کو سپائیڈرمین، بیٹ مین کے قصے سنانے کی بجاۓ ہمارے اسلامی تاریخ کے ہیروز کے قصے سنائیں. بزرگوں کا احترام کریں اور ان کے فیصلوں کو مانیں. 

Saturday, 28 February 2015

شازمینہ شہوار

ویلکم پارٹی 

یہ دن ہمیں یاد رہے گا


آج اٹھائیس فروری ہے- سال کے دوسرے مہینے کا آخری دن جو کے ابھی کچھ ہی گھنٹوں میں اپنے اختتام کو
پہنچنے والا ہے- یہ وہ دن ہے جس کا میں نے پچھلے ایک ھفتے سے بڑی بے صبری سے انتظار کیا تھا- آپ جاننا چاہتے ہونگے کیوں ؟ تو وہ اس لیئے کہ آج ہماری سینئرز نے جو کے اب کچھ ہی دنوں کی مہمان ہیں ھمارے لیئے ایک شاندار ویلکم پارٹی کا اہتمام کیا تھا
پارٹی کی  شروعات عمدہ قسم کے گانوں سے ہوئی - جس میں لڑکیوں کی اسٹیج توڑ ڈانس پرفارمنس نے لوگوں کی آنکھوں کو خیرہ کرنے پر مجبور کردیا- پارٹی میں ڈھیر ساری پرفارمنس میں ہر چھوٹے پڑے ہیج نے حصہ لیا-
" سر درد سر درد " والا کمرشل بھی بخوبی سر انجام دیا گیا جس کے آخر میں یہ کہا گیا کہ:
" تمام دوائیں بچوں کی پہنچ سے دور رکھیں - بیوی زیادہ تنگ کرے تو چوہے سے رجوع کریں"
 ساتھ ہی ساتھ چھوٹے موٹے گیمز بھی وقتنا فوقتنا لوگوں
کے دل لبھاتے رہے جس میں " بوجھو تو جانیں ھم تم کو مانیں" ،"دم ہے تو اسٹیج پہ آؤ" ، "میرا کی ایکٹنگ " اور " ویلنٹائن ہمارا عالمی دن " شامل ہیں
پارٹی میں ڈسکو لائٹس ، بڑیا قسم کے گانے اور پھولوں کی یوتی برسات نے پارٹی میں چار چاند لگا دیئے تھے- یہی نہیں ٹیچرز اور میڈم کی پارٹی میں انٹری کسی دھمال سے کم نہیں تھی ـ انھیں بڑی ہی عز ت و احترام کے ساتھ اسٹیج تک لایا گیا اور اسٹوڈنٹ نے انکے ساتھ گروپ فوٹوز لیں ـ
پارٹی کے آخر میں جونئیرز نے اپنے سینئیز کو نیک خواہشات سے نوازہ جس میں سے ایک لڑکی نے نہایت ہی جوش میں یہ نعرہ لگایا کہ : " سینئیرز یو آر راک " یہ کہتے ہی پورا ہال بھرپور تالیوں سے گونج اٹھا- اسکے بعد کھانے کا سلسلہ شروع ہوا- کھانے میں سنگاپورین رائس ، بوتل اور آئسکریم سے سبھی لطف اندوز ہوئےـ اور یوں یہ دن اپنے اختتام کو پہنچاـ

Friday, 27 February 2015

"خود کو بدلنا ہوگا"

پاکستان کے حالات حاضرہ پر اگر نظر ڈالی جائے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کے پاکستان ہمارا ملک ہم سے بچھڑ رہا ہے- پاکستان ہمارا ملک جو بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناح کی انتھک محنت اور بے شمار کوششوں اور جدوجہد کے بعد ہمیں ملا ہے اب پاکستان ویسا نہیں رہا جیسا پہلے تھا- پہلے بھی جنگیں ہوئی ہیں پہلے بھی لوگ مرتے تھے پر اس طرح سے نہیں جس طرح سے اب ہو رہا ہے- اب تو ہر روز ہی جنگ کا سماں ہوتا ہے- ہر روز کتنے گھروں میں ماتم منائے جاتے ہیں- ہر روز ہی کتنے معصوموں کا اور کتنے بے گناہ لوگوں کا جنازہ اٹھایا جاتا ہے اور ہم چپ چاپ کھڑے دیکھ رہے ہوتے ہیں اب کیوں ہم لوگوں میں اتحاد نہیں رہا؟ کیوں ہم ڈرتے ہیں؟ اگر کوئی سامنے کھڑا کسی بے قصور شخص کو بلا وجا مار کے چلا جائے تو ہم کیوں آگے نہیں بڑھتے؟ کیوں ہم اس ڈر سے پیچھے ہٹ جاتے ہیں کے اگر ہم نے اس شخص کی جان بچانے کی کوشش کی تو کہیں ایسا نا ہو کے یے ہمارے اپنوں کو نقصان نا پہنچادے- آخر ہم یے کیوں نہیں سوچتے کے ہمیں صرف اور صرف ایک ہی ذات سے ڈرنا چاہیئے- اگر ہم یے سوچ کر کسی کی جان بچانے کی کوشش کریں کے اس بے قصور شخص کی جگا کل کو کوئی ہمارا اپنا بھی ہو سکتا ہے- یے سوچا جائے کے ہم سب مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں اور سب ایک ہو کر آگے بڑھنے لگے تو ہمارے ملک کی حالت بدل سکتی ہے ہمیں پہلے خود کو بدلنا ہوگا تبھی ہمارے ملک کی حالت بدل سکتی ہے-
پہلے جب کبھی بھم دھماکے ہوتے تھے تو ان معصوم شہیدوں کو دیکھر آنکھیں بھر آتی تھیں پر اب تو یے روز کا معمول بن گیا ہے- لوگوں کے دلوں سے وہ درد ختم ہوگیا ہے جو وہ پہلے محسوس کرتے تھے اب وہ یے کہے کر ٹال دیتے ہیں کے یے تو روز کی ہی بات ہے اب ہم کیا کر سکتے ہیں اس ملک کا- ہم لوگ یے کیوں نہیں سوچتے کے جس گھر سے جنازہ اٹھے گا اس گھر میں کتنی ویرانی ہوگی- کتنی مائوں کی ممتا ان سے چھینی گئی ہوگی کتنے بچوں کے سر سے انکے باپ کا سایا ہٹ جائیگا-

ہمارے ملک کی حالت انتہائی بری سے بری ہوتی جارہی ہے- ہمیں اگر اپنے ملک کی حالت بدلنی ہے تو ہمیں خود کو بدلنا ہوگا- ہمیں اپنے لیئے نہیں بلکے دوسروں کیلئے جینا ہوگا- دوسروں کی تکلیف کو اپنا سمجھنا ہوگا اپنی جان کی فکر کیئے بغیر کسی دوسرے کی جان بچانی ہوگی- ہمیں اپنے حق کی آواز اٹھانی ہوگی- ہم اگر کچھ نہیں کر سکتے تو کم سے کم ہم اپنی آواز تو اٹھا سکتے ہیں- یے نہیں سہی تو ہم سڑک پر چلتے لوگوں کی مدد کر سکتے ہیں- کسی غریب کو ایک وقت کا کھانا کھلا سکتے ہیں- غریب بچوں کو گھر بیٹھے پڑھا سکتے ہیں- اپنی پوکٹ منی سے کچھ پیسے کسی غریب کو دے سکتے ہیں- جتنا ہم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اتنا تو کرٰیں ہمارے تھوڑا تھوڑا کرنے سے بھی بہت کچھ بدل سکتا ہے- یے نا سوچیں کے میرے ایک کے کرنے سے کیا ہوگا بلکے یے سوچیں کے اگر میری طرح سب ایسا کریں تو کتنا کچھ بدل سکتا ہے- اگر ہر کوئی یے سوچنے لگ جائے کے میرے ایک کے کرنے سے کیا ہوگا تو کچھ نہیں ہو سکتا- ہمیں اگر اپنے ملک سے پیار ہے تو ہمیں خود کو بدلنا ہوگا-       

Thursday, 26 February 2015

My First Blog Post..

Blogging is a very different and a good way of sharing what's in your mind .. Since I am new to blogging so I am still exploring it. My first blogging experience was kind of funny. As this blog is a part of my university assignment I had to make my post by all means. At that time my internet wasn't working so I went to my aunt's home that I can post my blog from there but there internet wasn't working either. Then I came back home and asked our neighbours if there internet is working but there internet too wasn't working. Time was passing and my blog was still not posted. Then my brother called his friend who lives in neighbourhood he gave his WiFi password and I did my post..
Now I think blogging is fun and a good way to express your self.

Wednesday, 25 February 2015

THINK ABOUT IT!!!





My innovation addresses the problem of lack of creativity in our students, it is just because of the conventional (RATTA) pattern







 It’s the simplest way of innovation in our class rooms by a method that for example, if everyday  5 periods occur in the  classroom , that from every class 1 period must be a period of creative writing the teacher will give different topics to the students on daily basis like 2 days from science , 2 days from the social life or general knowledge and one day the topics which belong   from the student  interest, and the rare thing is that the topic is random for the students no one know the topic  before the class except teacher , also the teacher selects everyday any 5 students to read and express some lines of their write-ups  in front of the class but the  students will have the freedom to write and explain their write-ups on both languages English or Urdu no barrier of language. Because in our society many people of us who have the talent but they scared, shy and hesitate to share their innovation with the people. 


It  produces the tremendous turned out in our education system, and the result of it we will discover the hidden talent of the country and it has so many other benefits like because of the random topics students will try to make the habits of book reading, because the daily write-ups needs general knowledge side by side sound knowledge of curricular books,  as a result of it every type of student will work hard on the curricular or syllabus  as well as try to get extra knowledge from news papers, books and other informative sources ,it is also helpful for the teachers that from the daily write-ups which  completely based on student creativity will tell different weaknesses and strengths of the students to the teachers that which section need to improve.

 in our education system which will led to different problems in our future, and also we are seeing the drawbacks of it, for instance now the trend of reading books almost vanished out from the society students only prefer to read the books of their course outline and avoid to read extracurricular books it is just because our education system not force and encourage the students to write from their own knowledge ,infect they provide  prepared answers  to the students and discourage the creative abilities of the students which results a student life time deprive from the creative abilities and always hesitate to express his feelings in different fields of life , he don’t have the confidence to write and speech anything by its own self.





Saturday, 14 February 2015

کرکٹ کا معرکہ ورلڈ کپ 

  14 فروری 2015 سے کرکٹ کا سب سے بڑا ایونٹ جوکے میگا ایونٹ کے نام سے جانا جاتا ہے شروع ہورہا ہے یعنی کے ورلڈ کپ 2015 کا آغاز ہے.
       کرکٹ کا ورلڈکپ ہر چار سال بعد ہوتا ہے یہ گیارہواں ورلڈ کپ ہے. کرکٹ کا یہ ایونٹ 1975 میں شروع ہوا. 1975 کا پہلا ورلڈ کپ ویسٹ انڈیز نے جیتا جو اس وقت دنیاۓ کرکٹ کے افق پر تھی اور کالی آندھی کے نام سے مشہور تھی. دنیا کی کوئی اور کرکٹ ٹیم اس کے مقابلے میں ٹھہر ہی نہیں سکتی تھی. تیسرا ورلڈ کپ جو 1983 میں ہوا. اس میں بھی ویسٹ انڈیز اور بھارت کی درمیان فائنل ہوا جس کا فائنل بھارت نے جیت لیا جو کے ایک حادثہ تھا اور بد قسمتی سے ویسٹ انڈیز ہار گئی. اس کے بعد ویسٹ انڈیز کا اثر کم ہونے لگا. 1992 میں پانچواں ورلڈکپ ہوا اس میں پاکستان کی ٹیم نے اس وقت کے کپتان عمران خان کی قیادت میں بہترین پرفارمنس کا مظاہرہ کیا اور قسمت نے ان کا ساتھ دیا الله کے فضل سے وو ورلڈ کپ پاکستان نے جیتا. پاکستان کے کپتان عمران خان نے ناخود بہترین پرفارمنس دی بلکے ان کا ساتھ تمام کھلاڑیوں نے خصوصاً جاوید میاںداد، انضمام الحق .وقار یونس اور وسیم اکرم نے دیا. ساتواں ورلڈکپ جو کے 1999 میں ہوا یہاں سے آسٹریلیا کی ٹیم کرکٹ کے آسمان پر ستارہ بن کر چمکی اور مسلسل تین ورلڈ کپ 1999، 2003 اور 2005 جیتے اور ویسٹ انڈیز کی طرح مسلسل 12 سال تک کرکٹ پر حکمرانی کرتی رہی. دسواں اور آخری ورلڈکپ 2011 میں ہوا جو کے انڈیا نے بہترین پرفارمنس سے جیتا.

       اب جو کے گیارہوں ورلڈ کپ شروع ہوگیا ہے اور اگلے دن یعنی 15 فروری 2015 کو پاکستان اور انڈیا کے درمیان میچ ہے. پاکستان اور انڈیا کے درمیان میچ میچ نہیں رہتا بلکہ ایک جنگ کی صورت اختیار کرلیتا ہے جوکہ صحیح نہیں ہے. پاکستان اور انڈیا کے میچ کو فائنل سے پہلے فائنل کہا جارہا ہے. تاریخ ہمیں بتاتی ہے کے ورلڈ کپ کے میچز میں پاکستان آج تک انڈیا کو شکست نہیں دے سکا ہے امید ہے کے اس مرتبہ جب کے ہماری ٹیم اتنی زیادہ مضبوط نہیں ہے اور تجربے میں بھی کمی ہے مگر کھلاڑیوں کے جوش و جذبہ اور قوم کی دعاؤں سے امید ہے کے پاکستان فاتح ہوگا اور انڈیا کی بظاہر طاقتور ٹیم کو شکست فاش دے گا.
     یوں تو اس ایونٹ میں دنیا نے ساؤتھ افریقہ کی ٹیم کو فیوریٹ قرار دیا ہے اور اس کے بعد آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کا نمبرآتا ہے. لیکن کرکٹ کا کھیل کسی بھی پیشنگوئی سے بالاتر ہے اس لئے یہ کرکٹ بائی چانس کہلاتا ہے. میچ والے دن جو ٹیم اچھا پرفارم کرگئی چاہۓ وہ چھوٹی ہو یا بڑی وہ جیت جائے گی.
     امید ہے کے کرکٹ کا یہ رںگارنگ میلہ بڑی دلچسپی کا باعث بنے گا اور کرکٹ کے دیوانے تقریباً ڈیرھ مہینے تک اس میں مگن رہیں گے اور اپنی اپنی پسندیدہ ٹیموں کی جیتنے کی امید لے کر ان میچوں کو بڑے ذوق و شوق سے دیکھیں گے اور اس بات سے ہٹ کر کرکٹ کے لورز دنیاۓ کرکٹ کے بہت بڑے بڑے اسٹارز کو کھیلتے ہوۓ دیکھیں گے. اس رنگارنگ میلے کا اختتام 29 مارچ 2015 کو آسٹریلیا کے میلبرن کرکٹ گراؤنڈ میں ہوگا. 

Friday, 13 February 2015

 شازمینہ شہوار

موبائل فونز


آج کےاس ترقی یافتہ دور میں موباٰئل فونز کا استعمال اتنا عام ہوچکا ھے کے کوئی بھی ٹیکنالوجی کی اس سوغات سے محروم نھیں پھر چاہے آپ باٰئیک پر ہوں یا کار میں ہر ہاتھ میں یہ سوغات پاٰئی جاتی ھے اور کٰیوں نہ ہو جب آپکو میسیجز اورکال کے اتنے سستے پیکیجز ملیں گیں تو اس کا استعمال آپ نہیں کرینگے تو اور کون کرے گا اب یہٰی دیکھ لیں 
تھری جی پیکیجز نے لوگوں کی زندگیوں کو اتنا آسان بنا دیا ھے کہ: 

بقول شاعر :
یوں دل کی بات کہنا تو مشکل ھے
- فراز-
اس لیئے آپ زونگ لیں اور سب کہہ دیں

یوں تو پہلے ھمارے دن کا آغاز عام طور پر چائے یا کافی کے ایک کپ سے ہوتا تھا لیکن آج صبح اٹھتے ہی ہر کوٰئی پہلی فرصت میں اپنا موبائل دیکھنا پسند کرتا ھے اور تو اور موبائل فونز میں بلوٹوتھ کسی تحفے سے کم نہیں جس کی مدد سے آپ اپنی من پسند چیزیں ایک دوسرے سے با آسانی حاصل کر سکتے ہیں- جدید موبائل کی صنعت نے جہاں لوگوں کی زندگیوں میں ایک انقلاب برپا کیا ھے وہیں اسکے مختلف استعمالات بھی دیکھنے کو ملتے ہیں اٌن میں پورٹیبل میڈیا ، ویب براوزر اور اسمارٹ فونز بھی شامل ہیں- 

  " یعنی جتنا موبائل مہنگا ہوگا اتنا ہی پبلک میں جیب سے باہرہوگا "

اب دیکھنا یہ ھے کے موبائل فونز کا روز بروز بڑھتا ہوا رجھان لوگوں کی زندگیوں میں اور کیا کیا تبدیلیاں لے کر آنے والا ھے یہ تو خیر آنے والا وقت ہی بتائے گا-

Thursday, 12 February 2015

"اردو کی اہمیت کہیں کھو سی گئ ہے
اردو پاکستان کی قومی زبان ہے- ہم اگر بات کرتے ہیں اردو کی تو دیکھا جائے تو اردو کی اہمیت کہیں کھو سی گئ ہے- پاکستان میں رہنے والے لوگ اردو کے بجائے انگریزی بولنے اور سیکھنے میں زیادہ فخر محسوس کرتے ہیں- یہاں تک کے والدین بھی اپنے بچوں کو ایسے اسکولوں میں داخل کرانے کے خواہشمند ہوتے ہیں جہاں فر فر انگریزی بولی جاتی ہو- آج کل توکچھ اسکولوں میں اساتذہ طالب علموں کو کلاس روم میں اردو میں باقاعدہ بات کرنے کی اجازت بھی نہیں دیتے ہیں-
   آج کے ترقی یافتا دور میں انگریزی کو زیادہ اہمیت دی جارہی ہے اور وہ لوگ جونا ٹیھک سے انگریزی بول سکتے ہیں اورنا ہی سمجھ سکتے ہیں اگر وہ کسی ایسی تقریب میں چلے جائیں جہاں اردو بولنے والے کم ہی ملیں تو وہ اندر ہی اندر شرم محسوس کرنے لگتے ہٰیں اور انگریزی بولنے والوں کی گرد ایسے شخص کو کم تر سمجھا جاتا ہے اور وہ لوگ یے کیوں بھول جاتے ہیں؟؟؟ کے انکی قومی زبان تو اردو ہے انگریزی نہیں تو انہیں اپنی قومی زبان بولنے میں بالکل بھی شرم محسوس نہیں کرنی چاہیئے بلکے اپنی قومی زبان اردو کو اہمیت دینی چاہیئے اور اسکی قدر کو برقرار رکھنا چاہیئے-
پاکستان میں رہنے والا فرد اگر نوکری کی تلاش میں نکلتا ہے تو اسکے لیئے اب یے ضروری ہوگیا ہے کے اسے اردو کے ساتھ ساتھ انگریزی بھی لازمی آئے- اخر ایسا کیوں ہے؟؟؟
اردو میں لکھی گئی کتابیں وغیرہ بھی نسبتاً انگریزی کے زیادہ آسان ہوتی ہیں کیونکے ہر شخص با آسانی اردو سمجھ بھی سکتا ہے اور بول بھی سکتا ہے لیکن وہ شخص جسے انگریزی نا آتی ہو تو اسے انگریزی کی کتابیں  پڑھنے میں مشکل ہوتی ہے اور وہ با آسانی اسے سمجھ نہیں پاتا تو ایسے شخص کے پاس انگریزی سمجھنے کیلئے کسی اچھی سی لغت کا ہونا ضروری ہوتا ہے-
اگر بات کی جائے دوسرے ممالک کی مثلاً چین میں اگر کوئی فنکشن یا فیسٹیول منایا جاتا ہے تو وہاں کے لوگ اپنی زبان کو ترجیح دیتے ہیں- لیکن اگر پاکستان مین کوئی فنکشن کا انعقاد کیا جائے تو وہاں اپنی قومی زبان اردو کے بجائے انگریزی زبان کو اہمیت دی جاتی ہے جبکے ایسا نہیں ہونا چاہیئے-
یہاں میں اردو یا انگریزی کی اچھائی یا برائی کی بات نہیں کر رہی بلکے یہاں بات کی جا رہی ہے اپنی قومی زبان کی اہمیت کی- انگریزی سیکھنا یا بولنا اچھی بات ہے پر اپنی قومی زبان کی اہمیت کو بھلا بیٹھنا یے ٹیھک نہیں تو ہمیں چاہیئے کے ہم اپنی قومی زبان کو زیادہ سے زیادہ اہمیت دیں اور اپنی قومی زبان اردو کی قدر کریں-


Wednesday, 11 February 2015

What The Fuss Is All About.....

14th Feb is near and everyone seems excited about valentine's day. Shopping malls are being decorated even t.v channels are producing shows on it. When there are some people who wait for this day when they can spend sometime with their loved ones , there is a small group who hate it.. According to them of is not our culture to celebrate valentine's day but we can telecast shows which promote it , we can decorate malls to attract people and put the idea of this day in to there heads. But how many of us knows exactly what our culture is.? Some people say our religion does not give us permission to celebrate this day and there is not just one day of love , we can celebrate love every day. But i feel strange when people bring our religion in this topic , because no one of us is living our lives according to the proper teachings of Islam and I am sorry to say this but we bent our religion according to our wishes . I just want to say that if something is not allowed in our culture and in our religion then it should completely stop being celebrated , and in this our media plays an important role because now media is easily accessible people and they can easily promote our culture. And if people are celebrating valentine's day then either we should except it or we should ignore it because we are sensible and educated people no one can tell us right or wrong it is us who will decide what we want to do and where we are going.

Tuesday, 10 February 2015

EFFECTS OF COLOURS ON HUMAN PSYCHOLOGY

Colours make our life bright and beautiful without colours there is no life. They make our life charming, attractive and sparking. It makes out life charming, attractive and sparkling. If also gives bad or good effect to our personality. Normally astrologers are also suggesting the people that which colours are suits on their personality for their better luck or future. Colours therapy has also a science.their personality for their better luck or future. Colours therapy has also a science.



Literally colours gives effect on human psychology and we have many examples of it. Like from thousands of years. It believed that red colour is sign of danger. Many people saw the dreams and say that often times bad or danger things shows form colours and also in cartoons or funny characters danger things shows for red colour but it is also a fact that red is the king of all colours and symbol of love.
When we talk we talk about green colour it is the sign of calmness , peace environment and pleasing effect because when we observe in our surrounding green means plants , trees give us pleasing effect every time and it  make our day. 
In nature blue colour we seen on sky ,and water like lakes, rivers, oceans which gives soothing effect to our eyes, mind and our moods which impacts gives relaxation to human psychology.



Same as yellow colour is not naturally found on the earth. It was discovered by the mixing of various colours it’s a sign of friendship in west and generally it takes as a bringing of happiness and this example can be easily seen in our eastern culture like in the wedding before the NIKKAH the bride wears yellow dress because behind this is a logic that yellow is the symbol of coming happiness in the life.
On the other hand while black colour is considered as sadness, bed things or destructive therefore in past eras people usually avoid to wear black colour in the party or and occasions.White is the colour of peace, prosperity and purity   
After all that the conclusion is every colour has its own significant and every colour gives different impact on human psychology .