ماضی بہتر یا آج
جسمانی بیماری کی تشخیص جلد یا دیر سے آخرکار ہو ہی جاتی ہے. اکثر بیماریوں کا علاج بھی ہوجاتا ہے لیکن اقدار، روایات، تہذیب و تمدن کی تباہی کا ازالہ سب کچھ ختم ہونے پر ہی ہوتا ہے.
آج ہمارے معاشرے میں خصوصاً شہری لوگوں میں صبر، برداشت، قربانی، اخلاق اور کردار جیسی باتیں کم عقلی اور کمزوری سمجھی جانے لگی ہیں. آج کے لوگوں میں عدم برداشت، منہ توڑ جواب ، لاجواب کرنا، بولتی بند کر دینا اور دماغ درست کردینے جیسی عادتیں اپنی کامیابی اور قابل فخر سمجھی جانے لگے ہیں. بے صبری اور عدم برداشت کے ایسے مناظر آپ کے سڑکوں پر روزانہ دیکھنے کو ملیں گے.
زمانہ ماضی میں بڑوں کی عزت اور احترام والدین کی فرمانبرداری کے مناظر ہم کثرت سے دیکھتے تھے کے والد کے آتے ہی گھر میں سکوت طاری ہوجاتا تھا شور شرابہ کرنے والے بچے خاموش ہوجاتے تھے. بسوں میں نوجوان بوڑھے شخص کو دیکھ کر اپنی سیٹ چھوڑ دیتے تھے اگر کوئی بڑا کسی بچے کے اس کی غلط حرکت پر ٹوکتا تو وہ معافی مانگتے ہوۓ دیکھا گیا. ایک وقت تھا کے بچے گلی میں کنچے یا گلی ڈنڈا کھیل رہے ہوتے تھے تو محلے کے کسی بزرگ کو آتا دیکھ کر دوڑ لگادیتے تھے.
لیکن آج آپ کسی کو نصیحت کا ایک لفظ کہہ کر دیکھیں تو وہ اپنی اصلاح پر توجہ کے بجاۓ منہ توڑ جوابات کا سلسلہ شروع ہوجاۓ گا. بچوں پر ہی کیا موقوف نوجوان بھی نصیحت کے جملے برداشت نہیں کرسکتے اور نا ہی کسی کے عیب پر خاموشی اختیار کرسکتے ہیں. ماضی میں جس طرح لوگ دوسرے کے عیبوں پر پردہ ڈالتے، غریبوں کی چپ کر مدد کرتے ، غلط بات کو بھی درگزر کرتے اور پڑوسیوں کا خیال رکھتے. مگر اب یہ سب باتیں نا پید نظر آتی ہیں.
ایسا کیوں ہوا ہے؟ اس رویے کی بہت ساری وجوہات میں سے ایک بڑی وجہ ٹیلی ویژن، موبائل فون اور انٹرنیٹ ہے. جب کے کمپیوٹر، انٹرنیٹ اور موبائل فون یہ سب کو بظاہر مدد دیتے ہیں لیکن یہ آلات نہ انسان کے رہنما اور نہ ہی انسانی صلاحیتوں کا متبادل ہوسکتے ہیں.اب ہمارے نوجوانوں نے اور بچوں نے اپنا سب کچھ ان آلات کو ہی بنالیا ہے انہیں ان چیزوں سے وقت ہی نہیں ملتا کہ وہ چند منٹ صحیح اپنے بزرگوں کی صحبت میں بیٹھ سکیں. ماضی میں گھر کے پہلے بڑے ابا، چچا، تایا، دادا، دادی، ماں بچوں کے استاد ہوتے تھے اور وہ بچے کی ذہنی صلاحیت کے مطابق اس کی تربیت کرتے تھے اور بچوں کی عمر کے لحاظ سے اسے معلومات دیتے تھے لیکن آج انٹرنیٹ ہی بچوں کا استاد ہی نہی سب کچھ ہوگیا ہے.
آج کا بچہ اپنے بڑوں کی بجاۓ انٹرنیٹ میں "گوگل" سے کامیاب زندگی گزارنے کے گر پوچھتا ہے. جو معلومات بچے کے والد کو بھی نہیں ہوتی وہ بچے کو انٹرنیٹ سے معلوم ہوجاتی ہیں. اب ماں، خالہ اور بڑی بہن کی بجاۓ "فیس بک" لڑکیوں کی مشیر اور راز دار ہے. ماضی میں ماں باپ بچوں کے آئیڈیل ہوتے تھے لیکن اب فیس بک، ٹوئٹر اور SMS نوجوانوں کی زندگی کا لازمی حصہ بن گۓ ہیں. اب گھر میں جب لوگ ایک ساتھ ہوکر بھی بیٹھتے ہیں تو اجنبیوں کی طرح ایک دوسرے سے لا تعلق ہو کر خاموش بیٹھ کر ٹی وی سکرین تکتے رہتے ہیں. اگرچہ کوئی مہمان بھی کسی کام سے آجاۓ تو وہ بھی گھنٹوں باجماعت ٹی وی کی زیارت کر کے نا مراد گھر لوٹ جاتا ہے.
حالات خواہ کتنے ہی گھمبیر ہی کیوں نہ ہوں امید کا دامن چھوڑنا گناہ ہے. بہتری کی کوشش کرتے رہنا اللہ اور اس کے رسول حضرت محمّد (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) کا حکم ہے. مسلمان کا ہر آنے والا دن گزرے دن سے بہتر ہونا چاہیۓ. ان اقدامات کے کے لئے بڑوں کو اپنے دل پر جبر کرنا ہوگا ممکن ہو تو ٹیلی ویژن کا عمل دخل کم سے کم کردیں. فون بلاضرورت نہ دیں. کمپیوٹر ایسی جگہ رکھیں جہاں آتے جاتے نظر پڑتی رہے. روزانہ رات کے کھانے پر اکھٹا ہوں اور بچوں سے ان کے پورے دن کی مصروفیات پر بات کریں. بچوں کو سپائیڈرمین، بیٹ مین کے قصے سنانے کی بجاۓ ہمارے اسلامی تاریخ کے ہیروز کے قصے سنائیں. بزرگوں کا احترام کریں اور ان کے فیصلوں کو مانیں.