Friday, 27 February 2015

"خود کو بدلنا ہوگا"

پاکستان کے حالات حاضرہ پر اگر نظر ڈالی جائے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کے پاکستان ہمارا ملک ہم سے بچھڑ رہا ہے- پاکستان ہمارا ملک جو بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناح کی انتھک محنت اور بے شمار کوششوں اور جدوجہد کے بعد ہمیں ملا ہے اب پاکستان ویسا نہیں رہا جیسا پہلے تھا- پہلے بھی جنگیں ہوئی ہیں پہلے بھی لوگ مرتے تھے پر اس طرح سے نہیں جس طرح سے اب ہو رہا ہے- اب تو ہر روز ہی جنگ کا سماں ہوتا ہے- ہر روز کتنے گھروں میں ماتم منائے جاتے ہیں- ہر روز ہی کتنے معصوموں کا اور کتنے بے گناہ لوگوں کا جنازہ اٹھایا جاتا ہے اور ہم چپ چاپ کھڑے دیکھ رہے ہوتے ہیں اب کیوں ہم لوگوں میں اتحاد نہیں رہا؟ کیوں ہم ڈرتے ہیں؟ اگر کوئی سامنے کھڑا کسی بے قصور شخص کو بلا وجا مار کے چلا جائے تو ہم کیوں آگے نہیں بڑھتے؟ کیوں ہم اس ڈر سے پیچھے ہٹ جاتے ہیں کے اگر ہم نے اس شخص کی جان بچانے کی کوشش کی تو کہیں ایسا نا ہو کے یے ہمارے اپنوں کو نقصان نا پہنچادے- آخر ہم یے کیوں نہیں سوچتے کے ہمیں صرف اور صرف ایک ہی ذات سے ڈرنا چاہیئے- اگر ہم یے سوچ کر کسی کی جان بچانے کی کوشش کریں کے اس بے قصور شخص کی جگا کل کو کوئی ہمارا اپنا بھی ہو سکتا ہے- یے سوچا جائے کے ہم سب مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں اور سب ایک ہو کر آگے بڑھنے لگے تو ہمارے ملک کی حالت بدل سکتی ہے ہمیں پہلے خود کو بدلنا ہوگا تبھی ہمارے ملک کی حالت بدل سکتی ہے-
پہلے جب کبھی بھم دھماکے ہوتے تھے تو ان معصوم شہیدوں کو دیکھر آنکھیں بھر آتی تھیں پر اب تو یے روز کا معمول بن گیا ہے- لوگوں کے دلوں سے وہ درد ختم ہوگیا ہے جو وہ پہلے محسوس کرتے تھے اب وہ یے کہے کر ٹال دیتے ہیں کے یے تو روز کی ہی بات ہے اب ہم کیا کر سکتے ہیں اس ملک کا- ہم لوگ یے کیوں نہیں سوچتے کے جس گھر سے جنازہ اٹھے گا اس گھر میں کتنی ویرانی ہوگی- کتنی مائوں کی ممتا ان سے چھینی گئی ہوگی کتنے بچوں کے سر سے انکے باپ کا سایا ہٹ جائیگا-

ہمارے ملک کی حالت انتہائی بری سے بری ہوتی جارہی ہے- ہمیں اگر اپنے ملک کی حالت بدلنی ہے تو ہمیں خود کو بدلنا ہوگا- ہمیں اپنے لیئے نہیں بلکے دوسروں کیلئے جینا ہوگا- دوسروں کی تکلیف کو اپنا سمجھنا ہوگا اپنی جان کی فکر کیئے بغیر کسی دوسرے کی جان بچانی ہوگی- ہمیں اپنے حق کی آواز اٹھانی ہوگی- ہم اگر کچھ نہیں کر سکتے تو کم سے کم ہم اپنی آواز تو اٹھا سکتے ہیں- یے نہیں سہی تو ہم سڑک پر چلتے لوگوں کی مدد کر سکتے ہیں- کسی غریب کو ایک وقت کا کھانا کھلا سکتے ہیں- غریب بچوں کو گھر بیٹھے پڑھا سکتے ہیں- اپنی پوکٹ منی سے کچھ پیسے کسی غریب کو دے سکتے ہیں- جتنا ہم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اتنا تو کرٰیں ہمارے تھوڑا تھوڑا کرنے سے بھی بہت کچھ بدل سکتا ہے- یے نا سوچیں کے میرے ایک کے کرنے سے کیا ہوگا بلکے یے سوچیں کے اگر میری طرح سب ایسا کریں تو کتنا کچھ بدل سکتا ہے- اگر ہر کوئی یے سوچنے لگ جائے کے میرے ایک کے کرنے سے کیا ہوگا تو کچھ نہیں ہو سکتا- ہمیں اگر اپنے ملک سے پیار ہے تو ہمیں خود کو بدلنا ہوگا-       

No comments:

Post a Comment