Saturday, 28 February 2015

شازمینہ شہوار

ویلکم پارٹی 

یہ دن ہمیں یاد رہے گا


آج اٹھائیس فروری ہے- سال کے دوسرے مہینے کا آخری دن جو کے ابھی کچھ ہی گھنٹوں میں اپنے اختتام کو
پہنچنے والا ہے- یہ وہ دن ہے جس کا میں نے پچھلے ایک ھفتے سے بڑی بے صبری سے انتظار کیا تھا- آپ جاننا چاہتے ہونگے کیوں ؟ تو وہ اس لیئے کہ آج ہماری سینئرز نے جو کے اب کچھ ہی دنوں کی مہمان ہیں ھمارے لیئے ایک شاندار ویلکم پارٹی کا اہتمام کیا تھا
پارٹی کی  شروعات عمدہ قسم کے گانوں سے ہوئی - جس میں لڑکیوں کی اسٹیج توڑ ڈانس پرفارمنس نے لوگوں کی آنکھوں کو خیرہ کرنے پر مجبور کردیا- پارٹی میں ڈھیر ساری پرفارمنس میں ہر چھوٹے پڑے ہیج نے حصہ لیا-
" سر درد سر درد " والا کمرشل بھی بخوبی سر انجام دیا گیا جس کے آخر میں یہ کہا گیا کہ:
" تمام دوائیں بچوں کی پہنچ سے دور رکھیں - بیوی زیادہ تنگ کرے تو چوہے سے رجوع کریں"
 ساتھ ہی ساتھ چھوٹے موٹے گیمز بھی وقتنا فوقتنا لوگوں
کے دل لبھاتے رہے جس میں " بوجھو تو جانیں ھم تم کو مانیں" ،"دم ہے تو اسٹیج پہ آؤ" ، "میرا کی ایکٹنگ " اور " ویلنٹائن ہمارا عالمی دن " شامل ہیں
پارٹی میں ڈسکو لائٹس ، بڑیا قسم کے گانے اور پھولوں کی یوتی برسات نے پارٹی میں چار چاند لگا دیئے تھے- یہی نہیں ٹیچرز اور میڈم کی پارٹی میں انٹری کسی دھمال سے کم نہیں تھی ـ انھیں بڑی ہی عز ت و احترام کے ساتھ اسٹیج تک لایا گیا اور اسٹوڈنٹ نے انکے ساتھ گروپ فوٹوز لیں ـ
پارٹی کے آخر میں جونئیرز نے اپنے سینئیز کو نیک خواہشات سے نوازہ جس میں سے ایک لڑکی نے نہایت ہی جوش میں یہ نعرہ لگایا کہ : " سینئیرز یو آر راک " یہ کہتے ہی پورا ہال بھرپور تالیوں سے گونج اٹھا- اسکے بعد کھانے کا سلسلہ شروع ہوا- کھانے میں سنگاپورین رائس ، بوتل اور آئسکریم سے سبھی لطف اندوز ہوئےـ اور یوں یہ دن اپنے اختتام کو پہنچاـ

Friday, 27 February 2015

"خود کو بدلنا ہوگا"

پاکستان کے حالات حاضرہ پر اگر نظر ڈالی جائے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کے پاکستان ہمارا ملک ہم سے بچھڑ رہا ہے- پاکستان ہمارا ملک جو بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناح کی انتھک محنت اور بے شمار کوششوں اور جدوجہد کے بعد ہمیں ملا ہے اب پاکستان ویسا نہیں رہا جیسا پہلے تھا- پہلے بھی جنگیں ہوئی ہیں پہلے بھی لوگ مرتے تھے پر اس طرح سے نہیں جس طرح سے اب ہو رہا ہے- اب تو ہر روز ہی جنگ کا سماں ہوتا ہے- ہر روز کتنے گھروں میں ماتم منائے جاتے ہیں- ہر روز ہی کتنے معصوموں کا اور کتنے بے گناہ لوگوں کا جنازہ اٹھایا جاتا ہے اور ہم چپ چاپ کھڑے دیکھ رہے ہوتے ہیں اب کیوں ہم لوگوں میں اتحاد نہیں رہا؟ کیوں ہم ڈرتے ہیں؟ اگر کوئی سامنے کھڑا کسی بے قصور شخص کو بلا وجا مار کے چلا جائے تو ہم کیوں آگے نہیں بڑھتے؟ کیوں ہم اس ڈر سے پیچھے ہٹ جاتے ہیں کے اگر ہم نے اس شخص کی جان بچانے کی کوشش کی تو کہیں ایسا نا ہو کے یے ہمارے اپنوں کو نقصان نا پہنچادے- آخر ہم یے کیوں نہیں سوچتے کے ہمیں صرف اور صرف ایک ہی ذات سے ڈرنا چاہیئے- اگر ہم یے سوچ کر کسی کی جان بچانے کی کوشش کریں کے اس بے قصور شخص کی جگا کل کو کوئی ہمارا اپنا بھی ہو سکتا ہے- یے سوچا جائے کے ہم سب مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں اور سب ایک ہو کر آگے بڑھنے لگے تو ہمارے ملک کی حالت بدل سکتی ہے ہمیں پہلے خود کو بدلنا ہوگا تبھی ہمارے ملک کی حالت بدل سکتی ہے-
پہلے جب کبھی بھم دھماکے ہوتے تھے تو ان معصوم شہیدوں کو دیکھر آنکھیں بھر آتی تھیں پر اب تو یے روز کا معمول بن گیا ہے- لوگوں کے دلوں سے وہ درد ختم ہوگیا ہے جو وہ پہلے محسوس کرتے تھے اب وہ یے کہے کر ٹال دیتے ہیں کے یے تو روز کی ہی بات ہے اب ہم کیا کر سکتے ہیں اس ملک کا- ہم لوگ یے کیوں نہیں سوچتے کے جس گھر سے جنازہ اٹھے گا اس گھر میں کتنی ویرانی ہوگی- کتنی مائوں کی ممتا ان سے چھینی گئی ہوگی کتنے بچوں کے سر سے انکے باپ کا سایا ہٹ جائیگا-

ہمارے ملک کی حالت انتہائی بری سے بری ہوتی جارہی ہے- ہمیں اگر اپنے ملک کی حالت بدلنی ہے تو ہمیں خود کو بدلنا ہوگا- ہمیں اپنے لیئے نہیں بلکے دوسروں کیلئے جینا ہوگا- دوسروں کی تکلیف کو اپنا سمجھنا ہوگا اپنی جان کی فکر کیئے بغیر کسی دوسرے کی جان بچانی ہوگی- ہمیں اپنے حق کی آواز اٹھانی ہوگی- ہم اگر کچھ نہیں کر سکتے تو کم سے کم ہم اپنی آواز تو اٹھا سکتے ہیں- یے نہیں سہی تو ہم سڑک پر چلتے لوگوں کی مدد کر سکتے ہیں- کسی غریب کو ایک وقت کا کھانا کھلا سکتے ہیں- غریب بچوں کو گھر بیٹھے پڑھا سکتے ہیں- اپنی پوکٹ منی سے کچھ پیسے کسی غریب کو دے سکتے ہیں- جتنا ہم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اتنا تو کرٰیں ہمارے تھوڑا تھوڑا کرنے سے بھی بہت کچھ بدل سکتا ہے- یے نا سوچیں کے میرے ایک کے کرنے سے کیا ہوگا بلکے یے سوچیں کے اگر میری طرح سب ایسا کریں تو کتنا کچھ بدل سکتا ہے- اگر ہر کوئی یے سوچنے لگ جائے کے میرے ایک کے کرنے سے کیا ہوگا تو کچھ نہیں ہو سکتا- ہمیں اگر اپنے ملک سے پیار ہے تو ہمیں خود کو بدلنا ہوگا-       

Thursday, 26 February 2015

My First Blog Post..

Blogging is a very different and a good way of sharing what's in your mind .. Since I am new to blogging so I am still exploring it. My first blogging experience was kind of funny. As this blog is a part of my university assignment I had to make my post by all means. At that time my internet wasn't working so I went to my aunt's home that I can post my blog from there but there internet wasn't working either. Then I came back home and asked our neighbours if there internet is working but there internet too wasn't working. Time was passing and my blog was still not posted. Then my brother called his friend who lives in neighbourhood he gave his WiFi password and I did my post..
Now I think blogging is fun and a good way to express your self.

Wednesday, 25 February 2015

THINK ABOUT IT!!!





My innovation addresses the problem of lack of creativity in our students, it is just because of the conventional (RATTA) pattern







 It’s the simplest way of innovation in our class rooms by a method that for example, if everyday  5 periods occur in the  classroom , that from every class 1 period must be a period of creative writing the teacher will give different topics to the students on daily basis like 2 days from science , 2 days from the social life or general knowledge and one day the topics which belong   from the student  interest, and the rare thing is that the topic is random for the students no one know the topic  before the class except teacher , also the teacher selects everyday any 5 students to read and express some lines of their write-ups  in front of the class but the  students will have the freedom to write and explain their write-ups on both languages English or Urdu no barrier of language. Because in our society many people of us who have the talent but they scared, shy and hesitate to share their innovation with the people. 


It  produces the tremendous turned out in our education system, and the result of it we will discover the hidden talent of the country and it has so many other benefits like because of the random topics students will try to make the habits of book reading, because the daily write-ups needs general knowledge side by side sound knowledge of curricular books,  as a result of it every type of student will work hard on the curricular or syllabus  as well as try to get extra knowledge from news papers, books and other informative sources ,it is also helpful for the teachers that from the daily write-ups which  completely based on student creativity will tell different weaknesses and strengths of the students to the teachers that which section need to improve.

 in our education system which will led to different problems in our future, and also we are seeing the drawbacks of it, for instance now the trend of reading books almost vanished out from the society students only prefer to read the books of their course outline and avoid to read extracurricular books it is just because our education system not force and encourage the students to write from their own knowledge ,infect they provide  prepared answers  to the students and discourage the creative abilities of the students which results a student life time deprive from the creative abilities and always hesitate to express his feelings in different fields of life , he don’t have the confidence to write and speech anything by its own self.





Saturday, 14 February 2015

کرکٹ کا معرکہ ورلڈ کپ 

  14 فروری 2015 سے کرکٹ کا سب سے بڑا ایونٹ جوکے میگا ایونٹ کے نام سے جانا جاتا ہے شروع ہورہا ہے یعنی کے ورلڈ کپ 2015 کا آغاز ہے.
       کرکٹ کا ورلڈکپ ہر چار سال بعد ہوتا ہے یہ گیارہواں ورلڈ کپ ہے. کرکٹ کا یہ ایونٹ 1975 میں شروع ہوا. 1975 کا پہلا ورلڈ کپ ویسٹ انڈیز نے جیتا جو اس وقت دنیاۓ کرکٹ کے افق پر تھی اور کالی آندھی کے نام سے مشہور تھی. دنیا کی کوئی اور کرکٹ ٹیم اس کے مقابلے میں ٹھہر ہی نہیں سکتی تھی. تیسرا ورلڈ کپ جو 1983 میں ہوا. اس میں بھی ویسٹ انڈیز اور بھارت کی درمیان فائنل ہوا جس کا فائنل بھارت نے جیت لیا جو کے ایک حادثہ تھا اور بد قسمتی سے ویسٹ انڈیز ہار گئی. اس کے بعد ویسٹ انڈیز کا اثر کم ہونے لگا. 1992 میں پانچواں ورلڈکپ ہوا اس میں پاکستان کی ٹیم نے اس وقت کے کپتان عمران خان کی قیادت میں بہترین پرفارمنس کا مظاہرہ کیا اور قسمت نے ان کا ساتھ دیا الله کے فضل سے وو ورلڈ کپ پاکستان نے جیتا. پاکستان کے کپتان عمران خان نے ناخود بہترین پرفارمنس دی بلکے ان کا ساتھ تمام کھلاڑیوں نے خصوصاً جاوید میاںداد، انضمام الحق .وقار یونس اور وسیم اکرم نے دیا. ساتواں ورلڈکپ جو کے 1999 میں ہوا یہاں سے آسٹریلیا کی ٹیم کرکٹ کے آسمان پر ستارہ بن کر چمکی اور مسلسل تین ورلڈ کپ 1999، 2003 اور 2005 جیتے اور ویسٹ انڈیز کی طرح مسلسل 12 سال تک کرکٹ پر حکمرانی کرتی رہی. دسواں اور آخری ورلڈکپ 2011 میں ہوا جو کے انڈیا نے بہترین پرفارمنس سے جیتا.

       اب جو کے گیارہوں ورلڈ کپ شروع ہوگیا ہے اور اگلے دن یعنی 15 فروری 2015 کو پاکستان اور انڈیا کے درمیان میچ ہے. پاکستان اور انڈیا کے درمیان میچ میچ نہیں رہتا بلکہ ایک جنگ کی صورت اختیار کرلیتا ہے جوکہ صحیح نہیں ہے. پاکستان اور انڈیا کے میچ کو فائنل سے پہلے فائنل کہا جارہا ہے. تاریخ ہمیں بتاتی ہے کے ورلڈ کپ کے میچز میں پاکستان آج تک انڈیا کو شکست نہیں دے سکا ہے امید ہے کے اس مرتبہ جب کے ہماری ٹیم اتنی زیادہ مضبوط نہیں ہے اور تجربے میں بھی کمی ہے مگر کھلاڑیوں کے جوش و جذبہ اور قوم کی دعاؤں سے امید ہے کے پاکستان فاتح ہوگا اور انڈیا کی بظاہر طاقتور ٹیم کو شکست فاش دے گا.
     یوں تو اس ایونٹ میں دنیا نے ساؤتھ افریقہ کی ٹیم کو فیوریٹ قرار دیا ہے اور اس کے بعد آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کا نمبرآتا ہے. لیکن کرکٹ کا کھیل کسی بھی پیشنگوئی سے بالاتر ہے اس لئے یہ کرکٹ بائی چانس کہلاتا ہے. میچ والے دن جو ٹیم اچھا پرفارم کرگئی چاہۓ وہ چھوٹی ہو یا بڑی وہ جیت جائے گی.
     امید ہے کے کرکٹ کا یہ رںگارنگ میلہ بڑی دلچسپی کا باعث بنے گا اور کرکٹ کے دیوانے تقریباً ڈیرھ مہینے تک اس میں مگن رہیں گے اور اپنی اپنی پسندیدہ ٹیموں کی جیتنے کی امید لے کر ان میچوں کو بڑے ذوق و شوق سے دیکھیں گے اور اس بات سے ہٹ کر کرکٹ کے لورز دنیاۓ کرکٹ کے بہت بڑے بڑے اسٹارز کو کھیلتے ہوۓ دیکھیں گے. اس رنگارنگ میلے کا اختتام 29 مارچ 2015 کو آسٹریلیا کے میلبرن کرکٹ گراؤنڈ میں ہوگا. 

Friday, 13 February 2015

 شازمینہ شہوار

موبائل فونز


آج کےاس ترقی یافتہ دور میں موباٰئل فونز کا استعمال اتنا عام ہوچکا ھے کے کوئی بھی ٹیکنالوجی کی اس سوغات سے محروم نھیں پھر چاہے آپ باٰئیک پر ہوں یا کار میں ہر ہاتھ میں یہ سوغات پاٰئی جاتی ھے اور کٰیوں نہ ہو جب آپکو میسیجز اورکال کے اتنے سستے پیکیجز ملیں گیں تو اس کا استعمال آپ نہیں کرینگے تو اور کون کرے گا اب یہٰی دیکھ لیں 
تھری جی پیکیجز نے لوگوں کی زندگیوں کو اتنا آسان بنا دیا ھے کہ: 

بقول شاعر :
یوں دل کی بات کہنا تو مشکل ھے
- فراز-
اس لیئے آپ زونگ لیں اور سب کہہ دیں

یوں تو پہلے ھمارے دن کا آغاز عام طور پر چائے یا کافی کے ایک کپ سے ہوتا تھا لیکن آج صبح اٹھتے ہی ہر کوٰئی پہلی فرصت میں اپنا موبائل دیکھنا پسند کرتا ھے اور تو اور موبائل فونز میں بلوٹوتھ کسی تحفے سے کم نہیں جس کی مدد سے آپ اپنی من پسند چیزیں ایک دوسرے سے با آسانی حاصل کر سکتے ہیں- جدید موبائل کی صنعت نے جہاں لوگوں کی زندگیوں میں ایک انقلاب برپا کیا ھے وہیں اسکے مختلف استعمالات بھی دیکھنے کو ملتے ہیں اٌن میں پورٹیبل میڈیا ، ویب براوزر اور اسمارٹ فونز بھی شامل ہیں- 

  " یعنی جتنا موبائل مہنگا ہوگا اتنا ہی پبلک میں جیب سے باہرہوگا "

اب دیکھنا یہ ھے کے موبائل فونز کا روز بروز بڑھتا ہوا رجھان لوگوں کی زندگیوں میں اور کیا کیا تبدیلیاں لے کر آنے والا ھے یہ تو خیر آنے والا وقت ہی بتائے گا-

Thursday, 12 February 2015

"اردو کی اہمیت کہیں کھو سی گئ ہے
اردو پاکستان کی قومی زبان ہے- ہم اگر بات کرتے ہیں اردو کی تو دیکھا جائے تو اردو کی اہمیت کہیں کھو سی گئ ہے- پاکستان میں رہنے والے لوگ اردو کے بجائے انگریزی بولنے اور سیکھنے میں زیادہ فخر محسوس کرتے ہیں- یہاں تک کے والدین بھی اپنے بچوں کو ایسے اسکولوں میں داخل کرانے کے خواہشمند ہوتے ہیں جہاں فر فر انگریزی بولی جاتی ہو- آج کل توکچھ اسکولوں میں اساتذہ طالب علموں کو کلاس روم میں اردو میں باقاعدہ بات کرنے کی اجازت بھی نہیں دیتے ہیں-
   آج کے ترقی یافتا دور میں انگریزی کو زیادہ اہمیت دی جارہی ہے اور وہ لوگ جونا ٹیھک سے انگریزی بول سکتے ہیں اورنا ہی سمجھ سکتے ہیں اگر وہ کسی ایسی تقریب میں چلے جائیں جہاں اردو بولنے والے کم ہی ملیں تو وہ اندر ہی اندر شرم محسوس کرنے لگتے ہٰیں اور انگریزی بولنے والوں کی گرد ایسے شخص کو کم تر سمجھا جاتا ہے اور وہ لوگ یے کیوں بھول جاتے ہیں؟؟؟ کے انکی قومی زبان تو اردو ہے انگریزی نہیں تو انہیں اپنی قومی زبان بولنے میں بالکل بھی شرم محسوس نہیں کرنی چاہیئے بلکے اپنی قومی زبان اردو کو اہمیت دینی چاہیئے اور اسکی قدر کو برقرار رکھنا چاہیئے-
پاکستان میں رہنے والا فرد اگر نوکری کی تلاش میں نکلتا ہے تو اسکے لیئے اب یے ضروری ہوگیا ہے کے اسے اردو کے ساتھ ساتھ انگریزی بھی لازمی آئے- اخر ایسا کیوں ہے؟؟؟
اردو میں لکھی گئی کتابیں وغیرہ بھی نسبتاً انگریزی کے زیادہ آسان ہوتی ہیں کیونکے ہر شخص با آسانی اردو سمجھ بھی سکتا ہے اور بول بھی سکتا ہے لیکن وہ شخص جسے انگریزی نا آتی ہو تو اسے انگریزی کی کتابیں  پڑھنے میں مشکل ہوتی ہے اور وہ با آسانی اسے سمجھ نہیں پاتا تو ایسے شخص کے پاس انگریزی سمجھنے کیلئے کسی اچھی سی لغت کا ہونا ضروری ہوتا ہے-
اگر بات کی جائے دوسرے ممالک کی مثلاً چین میں اگر کوئی فنکشن یا فیسٹیول منایا جاتا ہے تو وہاں کے لوگ اپنی زبان کو ترجیح دیتے ہیں- لیکن اگر پاکستان مین کوئی فنکشن کا انعقاد کیا جائے تو وہاں اپنی قومی زبان اردو کے بجائے انگریزی زبان کو اہمیت دی جاتی ہے جبکے ایسا نہیں ہونا چاہیئے-
یہاں میں اردو یا انگریزی کی اچھائی یا برائی کی بات نہیں کر رہی بلکے یہاں بات کی جا رہی ہے اپنی قومی زبان کی اہمیت کی- انگریزی سیکھنا یا بولنا اچھی بات ہے پر اپنی قومی زبان کی اہمیت کو بھلا بیٹھنا یے ٹیھک نہیں تو ہمیں چاہیئے کے ہم اپنی قومی زبان کو زیادہ سے زیادہ اہمیت دیں اور اپنی قومی زبان اردو کی قدر کریں-


Wednesday, 11 February 2015

What The Fuss Is All About.....

14th Feb is near and everyone seems excited about valentine's day. Shopping malls are being decorated even t.v channels are producing shows on it. When there are some people who wait for this day when they can spend sometime with their loved ones , there is a small group who hate it.. According to them of is not our culture to celebrate valentine's day but we can telecast shows which promote it , we can decorate malls to attract people and put the idea of this day in to there heads. But how many of us knows exactly what our culture is.? Some people say our religion does not give us permission to celebrate this day and there is not just one day of love , we can celebrate love every day. But i feel strange when people bring our religion in this topic , because no one of us is living our lives according to the proper teachings of Islam and I am sorry to say this but we bent our religion according to our wishes . I just want to say that if something is not allowed in our culture and in our religion then it should completely stop being celebrated , and in this our media plays an important role because now media is easily accessible people and they can easily promote our culture. And if people are celebrating valentine's day then either we should except it or we should ignore it because we are sensible and educated people no one can tell us right or wrong it is us who will decide what we want to do and where we are going.

Tuesday, 10 February 2015

EFFECTS OF COLOURS ON HUMAN PSYCHOLOGY

Colours make our life bright and beautiful without colours there is no life. They make our life charming, attractive and sparking. It makes out life charming, attractive and sparkling. If also gives bad or good effect to our personality. Normally astrologers are also suggesting the people that which colours are suits on their personality for their better luck or future. Colours therapy has also a science.their personality for their better luck or future. Colours therapy has also a science.



Literally colours gives effect on human psychology and we have many examples of it. Like from thousands of years. It believed that red colour is sign of danger. Many people saw the dreams and say that often times bad or danger things shows form colours and also in cartoons or funny characters danger things shows for red colour but it is also a fact that red is the king of all colours and symbol of love.
When we talk we talk about green colour it is the sign of calmness , peace environment and pleasing effect because when we observe in our surrounding green means plants , trees give us pleasing effect every time and it  make our day. 
In nature blue colour we seen on sky ,and water like lakes, rivers, oceans which gives soothing effect to our eyes, mind and our moods which impacts gives relaxation to human psychology.



Same as yellow colour is not naturally found on the earth. It was discovered by the mixing of various colours it’s a sign of friendship in west and generally it takes as a bringing of happiness and this example can be easily seen in our eastern culture like in the wedding before the NIKKAH the bride wears yellow dress because behind this is a logic that yellow is the symbol of coming happiness in the life.
On the other hand while black colour is considered as sadness, bed things or destructive therefore in past eras people usually avoid to wear black colour in the party or and occasions.White is the colour of peace, prosperity and purity   
After all that the conclusion is every colour has its own significant and every colour gives different impact on human psychology .

Thursday, 5 February 2015

آن لائن صحافت آنے والے وقتوں میں



جہاں بات کی جاتی ھے آن لائن صحافت کی تو وہ کسی انقلابی دنیا سے کم نہیں- آج کل ہر کوٰئی انٹرنیٹ پہ آن لائن ویب سائٹس کی دنیا کا حصہ بننا چاھتا ھے - آن لائن صحافت معاشرے میں تبدیلی کے ساتھ  ساتھ  ٹیکنالوجی کی بھی عکاسی کرتی ھے تقریباّ ایک سوملین افراد ولڈ ویب تک رساٰئی رکھتے ہیں اور اس میں دن بہ دن اظافہ بھی ہوتا جا رہا ھے

سوشل میڈیا معلومات حاصل کرنے کے روایتی طریقوں کے مقابلوں میں سب سے تیزھے جو کے آنے والوں وقتوں میں صحافیوں کا بہترین ہتیار بنتا معلوم ہوتا ھے اور پھر چاھے آپ دنیا کےکسی بھی کونے میں  موجود ہوں ہر قسم کی معلومات سےبآآسانی مستفید ہوسکتے ہیں - ییہی نہیں آن لائن صحافی اب سوشل ویب سائٹس پہ بھی اپنی خبروں کو ملٹی میڈیا کے زریعےاس قدر دلچسپ بنا کر پیش کر سکیں گے کہ پڑھنے والا پڑھے بغیر رہ ہی نہیں پائے گا اور تو اور مستقبل میں آن لائن صحافت میں بہت سے چیلنجز دکھائی دیتےھیں جس میں ایک سب سے بڑا چیلنج شھری صحافی کے طور پر سامنے آئےگا جو کچھ یوں ہوگ کہ: ٹیکنالوجی کی بہت سی جدیدیت کے ساتھ ساتھ ہر شہری صحافی اپنے اپنے بلاگ پوسٹ اور ٹوئٹز کی مدد سے آن لائن صحافت میں اپنا اہم کردار ادا کرتے نظر آئیں گے اور یہ صحافت مستقبل کی ترقی میں کس حد تک کامیاب ہوسکتی یے یہ کوئی نہیں جان سکتا

"FUTURE OF ONLINE JOURNALISM" (complementary post)

              "MEDIA MUST MOVE WITH THE TIMES

         
  
     
      The era in which we are living in , is as an era of science and technology where every day technology is updated in every field of life to make the life easy and comfortable.

     Similarly in a filed of media now social media is considered as the main and essential part of a society, because it's a very unique thing that every industry in the world makes those type of products which we can use and easily seen, but the rare thing is that media is also a industry which makes product in a shape of "message" in different ways, the content we seen on our television sets, the news we listen in our radio and the news we read in a news paper all are types of messages.
            

     But in a modern age in-spite of all that traditional media internet  brought a tremendous turned out in a human life, it's information is permanent , easy to access, interactive and also the author have unlimited space to gives unlimited information to their audiences also aspect of convergence is interesting for the viewers of social media.
     
     In future the life of a man will become move busy in all over the world, Therefore in that case internet is a easy way to get different type of information through gadgets, smart phones, laptop and etc , at any time , any where . In future the responsibility of online journalist will become more tough, because people will more prefer to use it as compare to traditional media.



     At the end I want to share some drawbacks of online journalism, because every thing has it’s bad and good sides, Therefore in online journalism sometimes we can't evaluate the credibility of a journalists, proper source also biased point of views and ethical questions are also seen.

Online Journalism And My Opinion



Today the world is growing fast and thanks to the technology everything is now on our finger tips. Every knowledge we want is on our finger tips. Online journalism has important role in it. Now a days in this busy life no one has time to sit in front of T.V and wait for news of their interest , rather they just go online to check the latest updates. Now every famous news channel have their applications which can be downloaded in our smart phones and keep us aware of new happenings. more over now everyone can follow their favorite news channels and journalists on social media this keeps everyone updated with the late test news and follow-ups on the go.. Now everyone can access the news of their interest any time anywhere.  On T.V we see new news every time but online we have the access to older news stories. If any big event happens we can’t have per minute follow-ups like we can have on internet. T.V has censor problems but we can see any news on internet without censor. I think in future people will rely more on online journalism as technology is growing fast...