Saturday, 14 February 2015

کرکٹ کا معرکہ ورلڈ کپ 

  14 فروری 2015 سے کرکٹ کا سب سے بڑا ایونٹ جوکے میگا ایونٹ کے نام سے جانا جاتا ہے شروع ہورہا ہے یعنی کے ورلڈ کپ 2015 کا آغاز ہے.
       کرکٹ کا ورلڈکپ ہر چار سال بعد ہوتا ہے یہ گیارہواں ورلڈ کپ ہے. کرکٹ کا یہ ایونٹ 1975 میں شروع ہوا. 1975 کا پہلا ورلڈ کپ ویسٹ انڈیز نے جیتا جو اس وقت دنیاۓ کرکٹ کے افق پر تھی اور کالی آندھی کے نام سے مشہور تھی. دنیا کی کوئی اور کرکٹ ٹیم اس کے مقابلے میں ٹھہر ہی نہیں سکتی تھی. تیسرا ورلڈ کپ جو 1983 میں ہوا. اس میں بھی ویسٹ انڈیز اور بھارت کی درمیان فائنل ہوا جس کا فائنل بھارت نے جیت لیا جو کے ایک حادثہ تھا اور بد قسمتی سے ویسٹ انڈیز ہار گئی. اس کے بعد ویسٹ انڈیز کا اثر کم ہونے لگا. 1992 میں پانچواں ورلڈکپ ہوا اس میں پاکستان کی ٹیم نے اس وقت کے کپتان عمران خان کی قیادت میں بہترین پرفارمنس کا مظاہرہ کیا اور قسمت نے ان کا ساتھ دیا الله کے فضل سے وو ورلڈ کپ پاکستان نے جیتا. پاکستان کے کپتان عمران خان نے ناخود بہترین پرفارمنس دی بلکے ان کا ساتھ تمام کھلاڑیوں نے خصوصاً جاوید میاںداد، انضمام الحق .وقار یونس اور وسیم اکرم نے دیا. ساتواں ورلڈکپ جو کے 1999 میں ہوا یہاں سے آسٹریلیا کی ٹیم کرکٹ کے آسمان پر ستارہ بن کر چمکی اور مسلسل تین ورلڈ کپ 1999، 2003 اور 2005 جیتے اور ویسٹ انڈیز کی طرح مسلسل 12 سال تک کرکٹ پر حکمرانی کرتی رہی. دسواں اور آخری ورلڈکپ 2011 میں ہوا جو کے انڈیا نے بہترین پرفارمنس سے جیتا.

       اب جو کے گیارہوں ورلڈ کپ شروع ہوگیا ہے اور اگلے دن یعنی 15 فروری 2015 کو پاکستان اور انڈیا کے درمیان میچ ہے. پاکستان اور انڈیا کے درمیان میچ میچ نہیں رہتا بلکہ ایک جنگ کی صورت اختیار کرلیتا ہے جوکہ صحیح نہیں ہے. پاکستان اور انڈیا کے میچ کو فائنل سے پہلے فائنل کہا جارہا ہے. تاریخ ہمیں بتاتی ہے کے ورلڈ کپ کے میچز میں پاکستان آج تک انڈیا کو شکست نہیں دے سکا ہے امید ہے کے اس مرتبہ جب کے ہماری ٹیم اتنی زیادہ مضبوط نہیں ہے اور تجربے میں بھی کمی ہے مگر کھلاڑیوں کے جوش و جذبہ اور قوم کی دعاؤں سے امید ہے کے پاکستان فاتح ہوگا اور انڈیا کی بظاہر طاقتور ٹیم کو شکست فاش دے گا.
     یوں تو اس ایونٹ میں دنیا نے ساؤتھ افریقہ کی ٹیم کو فیوریٹ قرار دیا ہے اور اس کے بعد آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کا نمبرآتا ہے. لیکن کرکٹ کا کھیل کسی بھی پیشنگوئی سے بالاتر ہے اس لئے یہ کرکٹ بائی چانس کہلاتا ہے. میچ والے دن جو ٹیم اچھا پرفارم کرگئی چاہۓ وہ چھوٹی ہو یا بڑی وہ جیت جائے گی.
     امید ہے کے کرکٹ کا یہ رںگارنگ میلہ بڑی دلچسپی کا باعث بنے گا اور کرکٹ کے دیوانے تقریباً ڈیرھ مہینے تک اس میں مگن رہیں گے اور اپنی اپنی پسندیدہ ٹیموں کی جیتنے کی امید لے کر ان میچوں کو بڑے ذوق و شوق سے دیکھیں گے اور اس بات سے ہٹ کر کرکٹ کے لورز دنیاۓ کرکٹ کے بہت بڑے بڑے اسٹارز کو کھیلتے ہوۓ دیکھیں گے. اس رنگارنگ میلے کا اختتام 29 مارچ 2015 کو آسٹریلیا کے میلبرن کرکٹ گراؤنڈ میں ہوگا. 

3 comments: