"آج کا آزاد میڈیا"
میڈیا بظاہرسننےاورلکھنےمیں ایک چھوٹا سا لفظ ہے لیکن پوری
دنیا کے کونے کونے میں پیھلا ہوا ہے- میڈیا لوگوں تک معلومات فراہم کرنے کا ایک
اہم ذریہ ہے یوں تو میڈیا کی بہت سی اقسام ہیں جس میں پرنٹ،الیکٹرانک،سوشل میڈیا
یہ سب آتے ہیں-
اگر ہم بات کرتے ہیں آج کے میڈیا کی تو آج کا میڈیا اتنا آزاد ہو چکا ہے کے وہ اپنی حدود کو بھلا بیٹھا ہے- اتنا زیادہ روشن خیال ہوچکا ہے کے اب وہ غلط کو غلط ہی نہیں سمجھتا کے کس طرح کے واہیات پروگرامز ٹیلی ویژن پر دکھاۓ جارہے ہیں کے جس میں بےحیائی کی باتیں عام ہوچکی ہیں- ایک پڑھا لکھا انسان اپنی فیملی کے ساتھ بیٹھ کر ٹیلی ویژن دیکھنے سےکتراتا ہے- یہی نہیں بلکے ٹیلی ویژن پر اپنے چنیل کی ریٹنگ بڑھانے کےلیے بےحیائی دکھانے لگتے ہیں- آج کا میڈیا اتنا آزاد ہوچکا ہے کے خواتین کے سر سے ڈوپٹہ تک اتر گیا اور اس کے علاوہ میڈیا کسی بھی مخصوص شخصیت کی پرسنل لائف کو اتنا زیادہ ہائی لائٹ کر دیتا ہے کے لوگ بھی ان پرباتیں بنانے لگتے ہیں اور انکے لیۓ اپنے ذہن میں اپنی ایک اچھی یا بری رائے قائم کرلیتے ہیں-
آج کل تقریبآ ہر چینل پر کوئی نہ کوئی کرائم پروگرام دکھایا جارہا ہے- جسمیں قتل اور واردات کے طریقے بتاۓ جارہے ہوتے ہیں کہ جو کریمنل ان سے واقف نہ بھی ہو تو وہ بھی ان نت نئے طریقوں سے واقف ہوجاتا ہے-
سوشل میڈیا بھی میڈیا کی ایک اقسام ہے جس میں فیس بک، ٹویتٹر یہ سب شامل ہیں- اور آج کی نوجوان نسل پر سوشل میڈیا کا بہت گہرا اثر پڑھ رہا ہے-
میڈیا کو اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کے وہ کس طرح کے واہیات ڈرامے اور پروگرامز دکھا رہے ہوتے ہیں جسکا بچوں کے چھوٹے چھوٹے زہنوں پر گہرا اثر پڑھتا ہے-
ایک مسلم معاشرے میں رہتنے ہوئے میڈیا کو اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کے وہ ایسے پروگرامز دکھاۓ کہ جس سے بچوں اور بڑوں دونوں کی معلومات میں اضافہ ہو- جس میں ہمارے مذہب اور کلچر کو دکھایا جاۓ-
اگر ہم بات کرتے ہیں آج کے میڈیا کی تو آج کا میڈیا اتنا آزاد ہو چکا ہے کے وہ اپنی حدود کو بھلا بیٹھا ہے- اتنا زیادہ روشن خیال ہوچکا ہے کے اب وہ غلط کو غلط ہی نہیں سمجھتا کے کس طرح کے واہیات پروگرامز ٹیلی ویژن پر دکھاۓ جارہے ہیں کے جس میں بےحیائی کی باتیں عام ہوچکی ہیں- ایک پڑھا لکھا انسان اپنی فیملی کے ساتھ بیٹھ کر ٹیلی ویژن دیکھنے سےکتراتا ہے- یہی نہیں بلکے ٹیلی ویژن پر اپنے چنیل کی ریٹنگ بڑھانے کےلیے بےحیائی دکھانے لگتے ہیں- آج کا میڈیا اتنا آزاد ہوچکا ہے کے خواتین کے سر سے ڈوپٹہ تک اتر گیا اور اس کے علاوہ میڈیا کسی بھی مخصوص شخصیت کی پرسنل لائف کو اتنا زیادہ ہائی لائٹ کر دیتا ہے کے لوگ بھی ان پرباتیں بنانے لگتے ہیں اور انکے لیۓ اپنے ذہن میں اپنی ایک اچھی یا بری رائے قائم کرلیتے ہیں-
آج کل تقریبآ ہر چینل پر کوئی نہ کوئی کرائم پروگرام دکھایا جارہا ہے- جسمیں قتل اور واردات کے طریقے بتاۓ جارہے ہوتے ہیں کہ جو کریمنل ان سے واقف نہ بھی ہو تو وہ بھی ان نت نئے طریقوں سے واقف ہوجاتا ہے-
سوشل میڈیا بھی میڈیا کی ایک اقسام ہے جس میں فیس بک، ٹویتٹر یہ سب شامل ہیں- اور آج کی نوجوان نسل پر سوشل میڈیا کا بہت گہرا اثر پڑھ رہا ہے-
میڈیا کو اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کے وہ کس طرح کے واہیات ڈرامے اور پروگرامز دکھا رہے ہوتے ہیں جسکا بچوں کے چھوٹے چھوٹے زہنوں پر گہرا اثر پڑھتا ہے-
ایک مسلم معاشرے میں رہتنے ہوئے میڈیا کو اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کے وہ ایسے پروگرامز دکھاۓ کہ جس سے بچوں اور بڑوں دونوں کی معلومات میں اضافہ ہو- جس میں ہمارے مذہب اور کلچر کو دکھایا جاۓ-









