Monday, 27 April 2015

     

                      موسم گرما کا جنت نظیر پھل 

     الله تعالیٰ نے انسان کو غزا کی صورتوں میں جو نعمتیں عطا کی ہیں اگرچہ ان کی کوئی حد نہیں. بلاشبہ اس کی ہر نعمت اپنی تاثیر اور اہمیت رکھتی ہے. یہ تمام نعمتیں اپنے حجم، زائقہ اور تاثیر سے الگ الگ ہوتی ہیں. ان سب نعمتوں میں بہت سارے پھل بھی شامل ہیں. ہر پھل ایک دوسرے سے اشکال میں مختلف ہوتے ہیں بلکہ ان سب کا ذائقہ اور تاثیر بھی باالکل مختلف ہوتے ہیں. جو صرف الله پاک کی قدرت کا ایک عطیہ ہے. ان بےشمار پھلوں میں ہم جس پھل کا تذکرہ کر رہے ہیں اس کو "آم" کہتے ہیں. "آم" پھلوں کا بادشاہ کہلاتا ہے.
        

"آم" وہ  پھل ہے جو ہر عمر کے لوگوں میں خواہ کوئی بچہ، جوان یا بوڑھا ہو بےحد پسند کیا جاتا ہے اور شاید اس طرح بھی کہہ سکتے ہیں کہ آم وہ پھل ہے جو شاید دنیا میں کسی کو بھی ناپسند نہیں ہوگا. الله پاک کے فضل و کرم سے وطن عزیز میں بھی آم کی بےشمار اقسام پائی جاتی ہیں. یہ پھل پاکستان میں مئی کے وسط سے تقریبآ ستمبر تک پایا جاتا ہے اور اس پھل کی خصوصیت یہ بھی ہے کے ہر پھل فروش کے پاس یا ہر ٹھیلے پر آم ہی آم نظرآتا ہے. ویسے تو آم کی بےشمار اقسام ایسی ہیں جن کے عام لوگوں کو نام بھی نہیں معلوم لیکن چند بہت مشہور اقسام ذیل میں ہیں. شروعات میں
"لنگڑا" ، "سندھڑی" اور "سرولی" آتا ہے. "لنگڑا آم" خاص و عام میں اتنا زیادہ پسند نہیں کیا جاتا اس کا زائقہ ترش ہوتا ہے. جبکے "سندھڑی آم" شوق سے کھایا جاتا ہے اور اس کا جوس بنا کر خوب پیا جاتا ہے جوس کے لئے یہ آم بہت موضوع سمجھا جاتا ہے. "سرولی آم" بھی خاص و عام میں بہت پسند کیا جاتا ہے.
         ویسے تو آم ہی پھلوں کا "بادشاہ" ہے مگر جب "چونسا آم" آتا ہے تو آم کی تمام اقسام کا "بادشاہ" کہا جاتا ہے. "چونسا آم" ہر خاص و عام میں بہت مقبول ہوتا ہے اور بہت ذوق و شوق سے کھایا جاتا ہے اور یہ کافی دیر تک رہتا ہے. خاص طور پر ملتان کا چونسا بہت میٹھا اور ہر دل عزیز آم کہلاتا ہے. سیزن کے آخر میں "انوراتول  آم" آتا ہے وہ بھی خاص و عام میں بہت مقبول ہے. ویسے تو آموں کی اور اقسام میں "دسیری" ، گلاب پاس" ، طوطاپری" اور "تخمی" اقسام ہیں. جو زیادہ مقبول نہیں ہیں. آم کے موسم میں بازاروں میں آموں کی بہار ہوتی ہے. ہر طرف آم ہی آم نظر آتے ہیں، ہر گھر میں آم ہوتے ہیں. آم وہ واحد پھل ہے جو زمانہ قدیم سے اپنے عروج پر ہے "مغل بادشاہوں" نے بھی اس کی تعریف میں بہت کچھ کہا ہے اور "شاعروں" نے بھی اپنے اشعار میں بھی اس کا تذکرہ کیا ہے. مختصر یہ کہ آم اپنے ذائقے تاثیر اور افادیت کی وجہ سے پھلوں کا "بادشاہ" کہلاتا ہے.

Friday, 24 April 2015

Things to know about your stars

Aries are known for their strong will power. Aquarius are loyal , friendly and sensitive . sagittarians are optimistics and spiritual. Gemimni are often believed as dual natured.cancers are emotional and capricons want to climb high.
But the most important thing is these stars , their traits has nothing to do with our personality. What we are and who we are is the result of our DNA and the experience of surrounding. But if we still think that our personalities somehow matches these traits then its merely a coinsidence.

Saturday, 11 April 2015

پودوں سے مزے کا مزه، دواکی دوا

    ایک جهاڑی دار پودا جسے ہم لیمن گراس کے نام سے جانتے ہیں. یہ بہت ہی خوبصورت اور دلکش معلوم ہوتا ہے. مزے کی بات تو یہ ہےکہ اس کے پتوں کو عام طور پر اکژ لوگ چائے کے قہوہ کے طور استعمال کرتے ہیں جس کو ایک ذائقے دار مشروب بهی کہا جاسکتا ہے اور اس پودے کے یہی پتے دوا کے طور پر بهی استعمال کئے جاسکتے ہیں. جس میں بےشماربیماریوں کے بےپناہ فوائد منسلک ہیں.
  
     یہ خوبصورت پودا آپ اور ہم آسانی سے گهر کے باغیچے میں یا کسی گملے میں لگاسکتے ہیں اور ذائقے کے ساته ساته بےشمار فوائد بهی حاصل کرسکتے ہیں. طبی نقطہ نظر سے لیمن گراس کا سب سے بڑا فائدہ سرطان(cancer) جیسے مرض میں بهی مفید ہے. اس کے علاوہ کچه دوسرے مرض جیسے پیٹ میں گیس کا بننا، آنتوں میں گیس کو بهرنے سے روکنے میں مواون ہے. ہائی بلڈپریشر کو کم کرنے کےلئے لیمن گراس کا جوس استعمال کیا جاتا ہے. اس جوس کو چہرے کی دلکشی کے لئے اور کیل مہاسوں کو کم کرنےکے لئے بهی استعمال کیاسکتا ہے.اس گراس کے استعمال سے جسم میں زیادہ چربی کم کرنے میں بهی مدد ملتی ہے. گرمی کو کم کرنے کےلئے بهی اس کا جوس استعمال کیا جاتا ہے. اس کےعلاوہ لیمن گراس سے تیل بهی بنایا جاسکتا ہے جس سے بےشمار فوائد ہیں. یہ تیل جوڑوں اور پٹهوں کےدرد کےلئے بہت مفید ہے.
   لیمن گراس ایک خوشبودار پودا ہے اگر اس پودے کو گهر کے باورچی خانےمیں رکه دیا جائے تو مچهروں سے بهی چهٹکارہ حاصل ہوسکتا ہے. اس کے پتے ایک خوشبودار جڑی بوٹی کا درجہ رکهتے ہیں جسے عام طور پر مصالحے کے طور پر بهی استعمال کیا جاسکتا ہے. اس کے پتوں میں مہک ہوتی ہے. اس کے پتوں کو ابلتے ہوئے پانی میں ڈال کر اس میں چند چهوٹی الائچی ڈال کر خوب پکائیں تو بہترین قہوہ تیار ہے. اس کو پی کر آپ کی طبعیت بحال ہوجائےگی اورتهکن دور ہوجائے گی اوراگر اس میں چینی کی بجائے شہد ملاکر پینے سے فلو اور بخار ختم ہوجاتا ہے. کهانسی کم ہوجاتی ہے لیمن گراس کا سوپ بهی بنایا جاسکتا ہے. اس کو بنانے کےلئے یخنی بناکر اس کے چند پتے ڈال کر مزید پکالیں پهر ذائقے دار اور مفید سوپ پئیں. چاولوں کو دم دیتے وقت لیمن گراس کے پتے ڈالنے سے جب چاولوں کا ڈهکنا ہٹتا ہے تو ہر سو خوشبو پهیل جاتی ہے.
   ایک چهوٹا سا پودا جو دیکهنے میں بهی حسین اور اس قدر فائدے دیکه کریہ کہنے میں کوئی عار نہیں کے لیمن گراس مزے کا مزه اور دوا کی دوا ہے. ان سب فوائد کو مدّنظر رکهتے ہوئے ہم اگر عام زندگی میں لیمن گراس کا استعمال شروع کردیں تو اس کے بڑے مثبت نتائج نکلیں گے مثلاََ: ہم روزمرہ زندگی میں چائے کا  استعمال کرتے ہیں جوس اور سوپ بهی پیا جاتا ہے اس طرح کهانا پکانا بهی روزآنہ کا معمول ہے اگرچہ ہم اس روزمرہ کے کهانے میں، چائے، جوس اور سوپ میں لیمن گراس کو استعمال کرنا شروع کردیں تو ہمیں ایک بہترین اور منفرد ذائقہ بهی حاصل ہوگا اور کئ بیماریوں سے بهی اگرچےنجات حاصل نا ہوسکی مگرکمی ضرور واقع ہوگی. کسی بهی چیز کی افادیت کو پرکهنے کےلئے اس کا پیمانہ تجربہ ہے اور جب ہم یہ تجربہ کریں گے تو ہمیں اس کی حقیقت کا پتاچلے گا کہ آیا یہ چیز ہمارے منہ کے ذائقے اور جسمانی بیماریوں کےلئے کس قدر مفید ہے.

Saturday, 4 April 2015

شازمینہ شہوار

جیک لنڈن

دنیا کا سب سع بڑا ناولسٹ " جیک لنڈن " جسے ایک ہی وقت میں پائریٹ، لولر، باسٹرڈ اور جینیس کہا گیا

جیک لنڈن نے دنیا میں آتے ہی زندگی کے تمام تربھیانک روپ دیکھے جس میں وہ ایک طرف سمندری ڈاکو بھی بنا تو
دوسری طرف ملوں میں کوئلہ جھونکنے والا مزدور بھی - گویا اس نے اپنی آنکھوں سے کچھ یوں دیکھا کہ اسے پلک جھپکانے کا وقت تک نہ مل سکا- ہر لمہہ موت کی پرچھائی اسکے ساتھ ساتھ چلتی تھی جیسے کسی گھنے سایہ دار درخت کا سایہ اس کا کبھی ساتھ نہیں چھوڑتا بلکل اسی طرح اس نے بھی ہر لمحہ موت کو اپنے بہت قریب محسوس کیا بالاآخر بے بس ہو کر اس نے اپنے ہاتھوں میں قلم تھام لیا- جیک نے سمندر کے کئی حادثوں کو کہانیوں میں قلمبند کیا اور ان کہانیوں کو اخبار میں چھپنے کے لیئے بھیج دیا اور یوں اسکے لیئے رفتہ رفتہ مستقبل کے دروازے وا ہونے لگے- کل تک جن اخبارات میں اسکے جینے مرنے کی خبریں چھاپی گئیں انھیں اخبارات نے اپنے صفحات اسکی تصویروں سے بھر دیئے اور جن گاڑیوں میں وہ بلا ٹکٹ سفر کرنے پہ پکڑا جاتا تھا انھیں گاڑیوں سے اترتے لوگوں نے اسے خشامدید کہا- ایک وقت ایسا بھی آیا جب جیک لنڈن کو امریکہ کا کارل مارکس کہا جانے لگا- اکتیس سال کی عمر تک جیک کی تقریبا کوئی چالیس کتابیں شائع 
ہو چکی تھیں جس میں مارٹن ایڈن ، دا سی ولف ، آئرن ہیل اور دا کال آف دی وائلڈ شامل ہیں







 جیک کا ایک خواب تھا کے وہ ایک قلعہ نما پہاڑی گھر بنوائے جس کے تئیس کمرے میں دنیا بھر کے فنکاروں کو مہمانوں 
کے طور پر ٹھرایا جائے- وہ ایک نہایت ہی فراخ دل اور خوش مزاج انسان تھا جس   کے بارے میں یہ کہا جاتا تھا کہ

 جس طرح کی مسکراہٹ اس کی ہونٹوں پر تھی اگر ایسی کسی کی پادری کے  ہونٹوں پر ہوتی تو ساری دنیا مزہبی ہوجاتی 

جیک نے اپنے پہاڑی نما گھر پر تقریبا اسی ھزار ڈالر خرچ کیئے اور جس صبح اس کو وہاں رہنے کے لیئے جانا تھا اس رات نجانے کیے اس کے گھر کو آگ لگ گئی- جیک اپنی آنکھوں کے سامنے اپنے گھر سے اٹھتے شعلے دیکھتا رہا اور  اپنے گھر کو بچانے کے لیئے کچھ بھی نہ کر سکا - نجانے کس نے حسد اور دشمنی کی آڑ میں اس سے اس کا گھر چھین لیا تھا- یہ وہ دن تھا جس دن جیک کا خواب جل گیا تھا ، اس کا انسانیت پر سے یقین اٹھ گیا تھا لیکن اس نے پھربھی ہمت نہ ہارتے ہوئے یہ لفذ کہے 
" میں وہی شخص ہونا چاہوں گا جسے کوئی آگ نہیں جلا سکتی "

جیک نے زندگی میں دو بار شادی کی اور وہ دونوں بار بہت مایوس ہوا- اسکی شدید خواہش تھی کے وہ کسی سنجیدہ عورت سے شادی کر کے اس سے پیار کرتا لیکن اسکی یہ خواہش کبھی پوری نہ ہوسکی - پھر ایک رات اسکی زندگی میں ایسی آئی جس دن اس نے اپنی زندگی سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیئے روٹھ جانے کا فیصلہ کیا اور اس رات اس نے زھر کھا کر اپنے آپ کو موت کی گھاٹ اتار لیا- یوں ایک قابل شخص نے دنیا کی تلکخ حقیقتوں سے تنگ کر آکر  اپنی زندگی کو خیر باد کہ دیا-   

جیک کو جہاں دفن کیا گیا اس پہ یہ لکھا گیا 
" وہ جسے معماروں نے عمارت میں نصب کرنے سے انکار کر دیا "

Friday, 3 April 2015


 مزے مزے کے  کھانے

الله نے انسان کو بے شمار نعمتوں سے نوازہ ہے- ان تمام نعمتوں میں سے ایک بڑی نعمت "غذا" ہے- غذا یعنی خوراک ایک ایسی نعمت ہے جسکے بغیر انسان کا زندہ رہنا مشکل ہے-
دنیا میں طرح طرح کے کھانے بنائے جاتے ہیں- ہر ملک اپنے اپنے روایتی اور دیسی کھانوں کی نسبت اپنی ایک مخصوص پہچان رکھتا ہے- چین میں چائنیز فوڈز کو زیادہ اہمیت دی جاتی ہے اور اب چائنیز فوڈز  پوری دنیا میں کھایا جاتا ہے اور پوری دنیا کے لوگ اسسے بہت شوق سے کھاتے ہیں-
اسی طرح پاکستانی کھانے بھی اپنی ایک الگ خوشبو اور لذّت کی بنا پر اپنی ایک الگ پہچان رکھتے  ہیں جن میں دیسی کھانے مثلا بریانی، پائے، نہاری، کوفتے لوگوں کی پسندیدہ غذائیں ہیں- یہ ہی نہیں بلکے دوسرے ممالک کے لوگ بھی پاکستانی کھانوں کے شوقین ہوتے ہیں-  اگر بچوں کی بات کی جائے تو وہ جنک فوڈز اور فاسٹ فوڈز کو زیادہ پسند کرتے ہیں جس میں بروسٹ، چکن برگر، زنگر برگر شامل ہیں-
سائنسی تحقیق کے مطابق یہ بات سامنے آئی ہے کے جنک فوڈز اور فاسٹ فوڈز کا زیادہ استعمال نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے-
خواتین میں بھی اب نت نئے اور  مزے مزے کے کھانے بنانے کا  روحجان بڑھتا  جارہا ہے- خواتین کے لیئے نئے نئے کھانے بنانا اب کوئی مشکل بات نہیں اب تو کھانا پکانا نہایت ہی آسان ہوگیا ہے- خواتین اب گھر بیٹهے بیٹهے بھی نت نئے کھانا پکانا سیکھ جاتی ہیں-
کچھ کھانے ایسے بھی ہیں جنھیں اپنوں کے ساتھ کھانے کا ایک اپنا ہی الگ مزہ ہے-جیسے کے" بار بی کیو"-
"بار بی کیو" زیادہ تر لوگ عید کے موقوں پر بناتے ہیں باقاعدہ اس کے لیئے شاندار تقریبات کا انعقاد کیا جاتا ہے اور اسسے اپنے رشتے داروں کے ساتھ انجوایئے کیا جاتا ہے-  

ہمیں الله کی نعمتوں کا شکر ادا کرنا چاہیئے  اور ہمیں رزق کی قدر کرنی چاہیئے-   

Thursday, 2 April 2015

Who Is The Fairest Of Them All....

Use this creme and you'll be fair in just 14 days , use that creme and you'll be fair in just 20 days , and the list goes on.... My question is why in the world everyone (and I am especially talking about girls) wants to be "fair" ? Why " being white" has become a trend ? Why if you have white skin then only you'll be concidered as beautiful.? Does that mean girls with dark skin are ugly..? Then why they are not satisfy with who they are..? Here I am quoting someone's statement that she feels shame of having dark complexion . why.? Its like being dark is a biggest sin that cannot be forgiven.. It's because of this "beautiful society" we live in. Where they make these girls feel sorry and almost ugly about themselves.. Like its their mistake they are born with this complexion.. And not to forget the fairness creme adds , thanks to their you-are-so-ugly concept they just feed in young girls' mind that they can't be "beautiful" without using there rubbish on there skins even if this crap ruin their natural skin.. We have to understand this that everyone is beautiful and no one is perfect. Everyone has something special in them you just need to explore it .. Groom yourself , eat healthy , take care of yourselves and most important just be happy that will automatically make you beautiful. Don't try to be what you are not, we live in Pakistan and here people are of colorful skin this is our beauty don't try to change it just embrace it and you will be the most beautiful.....:)

Sunday, 1 March 2015

ماضی بہتر یا آج 


         جسمانی بیماری کی تشخیص جلد یا دیر سے آخرکار ہو ہی جاتی ہے. اکثر بیماریوں کا علاج بھی ہوجاتا ہے لیکن اقدار، روایات، تہذیب و تمدن کی تباہی کا ازالہ سب کچھ ختم ہونے پر ہی ہوتا ہے.
         آج ہمارے معاشرے میں خصوصاً شہری لوگوں میں صبر، برداشت، قربانی، اخلاق اور کردار جیسی باتیں کم عقلی اور کمزوری سمجھی جانے لگی ہیں. آج کے لوگوں میں عدم برداشت، منہ توڑ جواب ، لاجواب کرنا، بولتی بند کر دینا اور دماغ درست کردینے جیسی عادتیں اپنی کامیابی اور قابل فخر سمجھی جانے لگے ہیں. بے صبری اور عدم برداشت کے ایسے مناظر آپ کے سڑکوں پر روزانہ دیکھنے کو ملیں گے.
         زمانہ ماضی میں بڑوں کی عزت اور احترام والدین کی فرمانبرداری کے مناظر ہم کثرت سے دیکھتے تھے کے والد کے آتے ہی گھر میں سکوت طاری ہوجاتا تھا شور شرابہ کرنے والے بچے خاموش ہوجاتے تھے. بسوں میں نوجوان بوڑھے شخص کو دیکھ کر اپنی سیٹ چھوڑ دیتے تھے اگر کوئی بڑا کسی بچے کے اس کی غلط حرکت پر ٹوکتا تو وہ معافی مانگتے ہوۓ دیکھا گیا. ایک وقت تھا کے بچے گلی میں کنچے یا گلی ڈنڈا کھیل رہے ہوتے تھے تو محلے کے کسی بزرگ کو آتا دیکھ کر دوڑ لگادیتے تھے.
        لیکن آج آپ کسی کو نصیحت کا ایک لفظ کہہ کر دیکھیں تو وہ اپنی اصلاح پر توجہ کے بجاۓ منہ توڑ جوابات کا سلسلہ شروع ہوجاۓ گا. بچوں پر ہی کیا موقوف نوجوان بھی نصیحت کے جملے برداشت نہیں کرسکتے اور نا ہی کسی کے عیب پر خاموشی اختیار کرسکتے ہیں. ماضی میں جس طرح لوگ دوسرے کے عیبوں پر پردہ ڈالتے، غریبوں کی چپ کر مدد کرتے ، غلط بات کو بھی درگزر کرتے اور پڑوسیوں کا خیال رکھتے. مگر اب یہ سب باتیں نا پید نظر آتی ہیں.
        ایسا کیوں ہوا ہے؟ اس رویے کی بہت ساری وجوہات میں سے ایک بڑی وجہ ٹیلی ویژن، موبائل فون اور انٹرنیٹ ہے. جب کے کمپیوٹر، انٹرنیٹ اور موبائل فون یہ سب کو بظاہر مدد دیتے ہیں لیکن یہ آلات نہ انسان کے رہنما اور نہ ہی انسانی صلاحیتوں کا متبادل ہوسکتے ہیں.اب ہمارے نوجوانوں نے اور بچوں  نے اپنا سب کچھ ان آلات کو ہی بنالیا ہے انہیں ان چیزوں سے وقت ہی نہیں ملتا کہ وہ چند منٹ صحیح اپنے بزرگوں کی صحبت میں بیٹھ سکیں. ماضی میں گھر کے پہلے بڑے ابا، چچا، تایا، دادا، دادی، ماں بچوں کے استاد ہوتے تھے اور وہ بچے کی ذہنی صلاحیت کے مطابق اس کی تربیت کرتے تھے اور بچوں کی عمر کے لحاظ سے اسے معلومات دیتے تھے لیکن آج انٹرنیٹ ہی بچوں کا استاد ہی نہی سب کچھ ہوگیا ہے.
        آج کا بچہ اپنے بڑوں کی بجاۓ انٹرنیٹ میں "گوگل" سے کامیاب زندگی گزارنے کے گر پوچھتا ہے. جو معلومات بچے کے والد کو بھی نہیں ہوتی وہ بچے کو انٹرنیٹ سے معلوم ہوجاتی ہیں. اب ماں، خالہ اور بڑی بہن کی بجاۓ "فیس بک" لڑکیوں کی مشیر اور راز دار ہے. ماضی میں ماں باپ بچوں کے آئیڈیل ہوتے تھے لیکن اب فیس بک، ٹوئٹر اور SMS نوجوانوں کی زندگی کا لازمی حصہ بن گۓ ہیں. اب گھر میں جب لوگ ایک ساتھ ہوکر بھی بیٹھتے ہیں تو اجنبیوں کی طرح ایک دوسرے سے لا تعلق ہو کر خاموش بیٹھ کر ٹی وی سکرین تکتے رہتے ہیں. اگرچہ کوئی مہمان بھی کسی کام سے آجاۓ تو وہ بھی گھنٹوں باجماعت ٹی وی کی زیارت کر کے نا مراد گھر لوٹ جاتا ہے.
       حالات خواہ کتنے ہی گھمبیر ہی کیوں نہ ہوں امید کا دامن چھوڑنا گناہ ہے. بہتری کی کوشش کرتے رہنا اللہ اور اس کے رسول حضرت محمّد (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) کا حکم ہے. مسلمان کا ہر آنے والا دن گزرے دن سے بہتر ہونا چاہیۓ. ان اقدامات کے کے لئے بڑوں کو اپنے دل پر جبر کرنا ہوگا ممکن ہو تو ٹیلی ویژن کا عمل دخل کم سے کم کردیں. فون بلاضرورت نہ دیں. کمپیوٹر ایسی جگہ رکھیں جہاں آتے جاتے نظر پڑتی رہے. روزانہ رات کے کھانے پر اکھٹا ہوں اور بچوں سے ان کے پورے دن کی مصروفیات پر بات کریں. بچوں کو سپائیڈرمین، بیٹ مین کے قصے سنانے کی بجاۓ ہمارے اسلامی تاریخ کے ہیروز کے قصے سنائیں. بزرگوں کا احترام کریں اور ان کے فیصلوں کو مانیں.