Sunday, 1 March 2015

ماضی بہتر یا آج 


         جسمانی بیماری کی تشخیص جلد یا دیر سے آخرکار ہو ہی جاتی ہے. اکثر بیماریوں کا علاج بھی ہوجاتا ہے لیکن اقدار، روایات، تہذیب و تمدن کی تباہی کا ازالہ سب کچھ ختم ہونے پر ہی ہوتا ہے.
         آج ہمارے معاشرے میں خصوصاً شہری لوگوں میں صبر، برداشت، قربانی، اخلاق اور کردار جیسی باتیں کم عقلی اور کمزوری سمجھی جانے لگی ہیں. آج کے لوگوں میں عدم برداشت، منہ توڑ جواب ، لاجواب کرنا، بولتی بند کر دینا اور دماغ درست کردینے جیسی عادتیں اپنی کامیابی اور قابل فخر سمجھی جانے لگے ہیں. بے صبری اور عدم برداشت کے ایسے مناظر آپ کے سڑکوں پر روزانہ دیکھنے کو ملیں گے.
         زمانہ ماضی میں بڑوں کی عزت اور احترام والدین کی فرمانبرداری کے مناظر ہم کثرت سے دیکھتے تھے کے والد کے آتے ہی گھر میں سکوت طاری ہوجاتا تھا شور شرابہ کرنے والے بچے خاموش ہوجاتے تھے. بسوں میں نوجوان بوڑھے شخص کو دیکھ کر اپنی سیٹ چھوڑ دیتے تھے اگر کوئی بڑا کسی بچے کے اس کی غلط حرکت پر ٹوکتا تو وہ معافی مانگتے ہوۓ دیکھا گیا. ایک وقت تھا کے بچے گلی میں کنچے یا گلی ڈنڈا کھیل رہے ہوتے تھے تو محلے کے کسی بزرگ کو آتا دیکھ کر دوڑ لگادیتے تھے.
        لیکن آج آپ کسی کو نصیحت کا ایک لفظ کہہ کر دیکھیں تو وہ اپنی اصلاح پر توجہ کے بجاۓ منہ توڑ جوابات کا سلسلہ شروع ہوجاۓ گا. بچوں پر ہی کیا موقوف نوجوان بھی نصیحت کے جملے برداشت نہیں کرسکتے اور نا ہی کسی کے عیب پر خاموشی اختیار کرسکتے ہیں. ماضی میں جس طرح لوگ دوسرے کے عیبوں پر پردہ ڈالتے، غریبوں کی چپ کر مدد کرتے ، غلط بات کو بھی درگزر کرتے اور پڑوسیوں کا خیال رکھتے. مگر اب یہ سب باتیں نا پید نظر آتی ہیں.
        ایسا کیوں ہوا ہے؟ اس رویے کی بہت ساری وجوہات میں سے ایک بڑی وجہ ٹیلی ویژن، موبائل فون اور انٹرنیٹ ہے. جب کے کمپیوٹر، انٹرنیٹ اور موبائل فون یہ سب کو بظاہر مدد دیتے ہیں لیکن یہ آلات نہ انسان کے رہنما اور نہ ہی انسانی صلاحیتوں کا متبادل ہوسکتے ہیں.اب ہمارے نوجوانوں نے اور بچوں  نے اپنا سب کچھ ان آلات کو ہی بنالیا ہے انہیں ان چیزوں سے وقت ہی نہیں ملتا کہ وہ چند منٹ صحیح اپنے بزرگوں کی صحبت میں بیٹھ سکیں. ماضی میں گھر کے پہلے بڑے ابا، چچا، تایا، دادا، دادی، ماں بچوں کے استاد ہوتے تھے اور وہ بچے کی ذہنی صلاحیت کے مطابق اس کی تربیت کرتے تھے اور بچوں کی عمر کے لحاظ سے اسے معلومات دیتے تھے لیکن آج انٹرنیٹ ہی بچوں کا استاد ہی نہی سب کچھ ہوگیا ہے.
        آج کا بچہ اپنے بڑوں کی بجاۓ انٹرنیٹ میں "گوگل" سے کامیاب زندگی گزارنے کے گر پوچھتا ہے. جو معلومات بچے کے والد کو بھی نہیں ہوتی وہ بچے کو انٹرنیٹ سے معلوم ہوجاتی ہیں. اب ماں، خالہ اور بڑی بہن کی بجاۓ "فیس بک" لڑکیوں کی مشیر اور راز دار ہے. ماضی میں ماں باپ بچوں کے آئیڈیل ہوتے تھے لیکن اب فیس بک، ٹوئٹر اور SMS نوجوانوں کی زندگی کا لازمی حصہ بن گۓ ہیں. اب گھر میں جب لوگ ایک ساتھ ہوکر بھی بیٹھتے ہیں تو اجنبیوں کی طرح ایک دوسرے سے لا تعلق ہو کر خاموش بیٹھ کر ٹی وی سکرین تکتے رہتے ہیں. اگرچہ کوئی مہمان بھی کسی کام سے آجاۓ تو وہ بھی گھنٹوں باجماعت ٹی وی کی زیارت کر کے نا مراد گھر لوٹ جاتا ہے.
       حالات خواہ کتنے ہی گھمبیر ہی کیوں نہ ہوں امید کا دامن چھوڑنا گناہ ہے. بہتری کی کوشش کرتے رہنا اللہ اور اس کے رسول حضرت محمّد (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) کا حکم ہے. مسلمان کا ہر آنے والا دن گزرے دن سے بہتر ہونا چاہیۓ. ان اقدامات کے کے لئے بڑوں کو اپنے دل پر جبر کرنا ہوگا ممکن ہو تو ٹیلی ویژن کا عمل دخل کم سے کم کردیں. فون بلاضرورت نہ دیں. کمپیوٹر ایسی جگہ رکھیں جہاں آتے جاتے نظر پڑتی رہے. روزانہ رات کے کھانے پر اکھٹا ہوں اور بچوں سے ان کے پورے دن کی مصروفیات پر بات کریں. بچوں کو سپائیڈرمین، بیٹ مین کے قصے سنانے کی بجاۓ ہمارے اسلامی تاریخ کے ہیروز کے قصے سنائیں. بزرگوں کا احترام کریں اور ان کے فیصلوں کو مانیں. 

Saturday, 28 February 2015

شازمینہ شہوار

ویلکم پارٹی 

یہ دن ہمیں یاد رہے گا


آج اٹھائیس فروری ہے- سال کے دوسرے مہینے کا آخری دن جو کے ابھی کچھ ہی گھنٹوں میں اپنے اختتام کو
پہنچنے والا ہے- یہ وہ دن ہے جس کا میں نے پچھلے ایک ھفتے سے بڑی بے صبری سے انتظار کیا تھا- آپ جاننا چاہتے ہونگے کیوں ؟ تو وہ اس لیئے کہ آج ہماری سینئرز نے جو کے اب کچھ ہی دنوں کی مہمان ہیں ھمارے لیئے ایک شاندار ویلکم پارٹی کا اہتمام کیا تھا
پارٹی کی  شروعات عمدہ قسم کے گانوں سے ہوئی - جس میں لڑکیوں کی اسٹیج توڑ ڈانس پرفارمنس نے لوگوں کی آنکھوں کو خیرہ کرنے پر مجبور کردیا- پارٹی میں ڈھیر ساری پرفارمنس میں ہر چھوٹے پڑے ہیج نے حصہ لیا-
" سر درد سر درد " والا کمرشل بھی بخوبی سر انجام دیا گیا جس کے آخر میں یہ کہا گیا کہ:
" تمام دوائیں بچوں کی پہنچ سے دور رکھیں - بیوی زیادہ تنگ کرے تو چوہے سے رجوع کریں"
 ساتھ ہی ساتھ چھوٹے موٹے گیمز بھی وقتنا فوقتنا لوگوں
کے دل لبھاتے رہے جس میں " بوجھو تو جانیں ھم تم کو مانیں" ،"دم ہے تو اسٹیج پہ آؤ" ، "میرا کی ایکٹنگ " اور " ویلنٹائن ہمارا عالمی دن " شامل ہیں
پارٹی میں ڈسکو لائٹس ، بڑیا قسم کے گانے اور پھولوں کی یوتی برسات نے پارٹی میں چار چاند لگا دیئے تھے- یہی نہیں ٹیچرز اور میڈم کی پارٹی میں انٹری کسی دھمال سے کم نہیں تھی ـ انھیں بڑی ہی عز ت و احترام کے ساتھ اسٹیج تک لایا گیا اور اسٹوڈنٹ نے انکے ساتھ گروپ فوٹوز لیں ـ
پارٹی کے آخر میں جونئیرز نے اپنے سینئیز کو نیک خواہشات سے نوازہ جس میں سے ایک لڑکی نے نہایت ہی جوش میں یہ نعرہ لگایا کہ : " سینئیرز یو آر راک " یہ کہتے ہی پورا ہال بھرپور تالیوں سے گونج اٹھا- اسکے بعد کھانے کا سلسلہ شروع ہوا- کھانے میں سنگاپورین رائس ، بوتل اور آئسکریم سے سبھی لطف اندوز ہوئےـ اور یوں یہ دن اپنے اختتام کو پہنچاـ

Friday, 27 February 2015

"خود کو بدلنا ہوگا"

پاکستان کے حالات حاضرہ پر اگر نظر ڈالی جائے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کے پاکستان ہمارا ملک ہم سے بچھڑ رہا ہے- پاکستان ہمارا ملک جو بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناح کی انتھک محنت اور بے شمار کوششوں اور جدوجہد کے بعد ہمیں ملا ہے اب پاکستان ویسا نہیں رہا جیسا پہلے تھا- پہلے بھی جنگیں ہوئی ہیں پہلے بھی لوگ مرتے تھے پر اس طرح سے نہیں جس طرح سے اب ہو رہا ہے- اب تو ہر روز ہی جنگ کا سماں ہوتا ہے- ہر روز کتنے گھروں میں ماتم منائے جاتے ہیں- ہر روز ہی کتنے معصوموں کا اور کتنے بے گناہ لوگوں کا جنازہ اٹھایا جاتا ہے اور ہم چپ چاپ کھڑے دیکھ رہے ہوتے ہیں اب کیوں ہم لوگوں میں اتحاد نہیں رہا؟ کیوں ہم ڈرتے ہیں؟ اگر کوئی سامنے کھڑا کسی بے قصور شخص کو بلا وجا مار کے چلا جائے تو ہم کیوں آگے نہیں بڑھتے؟ کیوں ہم اس ڈر سے پیچھے ہٹ جاتے ہیں کے اگر ہم نے اس شخص کی جان بچانے کی کوشش کی تو کہیں ایسا نا ہو کے یے ہمارے اپنوں کو نقصان نا پہنچادے- آخر ہم یے کیوں نہیں سوچتے کے ہمیں صرف اور صرف ایک ہی ذات سے ڈرنا چاہیئے- اگر ہم یے سوچ کر کسی کی جان بچانے کی کوشش کریں کے اس بے قصور شخص کی جگا کل کو کوئی ہمارا اپنا بھی ہو سکتا ہے- یے سوچا جائے کے ہم سب مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں اور سب ایک ہو کر آگے بڑھنے لگے تو ہمارے ملک کی حالت بدل سکتی ہے ہمیں پہلے خود کو بدلنا ہوگا تبھی ہمارے ملک کی حالت بدل سکتی ہے-
پہلے جب کبھی بھم دھماکے ہوتے تھے تو ان معصوم شہیدوں کو دیکھر آنکھیں بھر آتی تھیں پر اب تو یے روز کا معمول بن گیا ہے- لوگوں کے دلوں سے وہ درد ختم ہوگیا ہے جو وہ پہلے محسوس کرتے تھے اب وہ یے کہے کر ٹال دیتے ہیں کے یے تو روز کی ہی بات ہے اب ہم کیا کر سکتے ہیں اس ملک کا- ہم لوگ یے کیوں نہیں سوچتے کے جس گھر سے جنازہ اٹھے گا اس گھر میں کتنی ویرانی ہوگی- کتنی مائوں کی ممتا ان سے چھینی گئی ہوگی کتنے بچوں کے سر سے انکے باپ کا سایا ہٹ جائیگا-

ہمارے ملک کی حالت انتہائی بری سے بری ہوتی جارہی ہے- ہمیں اگر اپنے ملک کی حالت بدلنی ہے تو ہمیں خود کو بدلنا ہوگا- ہمیں اپنے لیئے نہیں بلکے دوسروں کیلئے جینا ہوگا- دوسروں کی تکلیف کو اپنا سمجھنا ہوگا اپنی جان کی فکر کیئے بغیر کسی دوسرے کی جان بچانی ہوگی- ہمیں اپنے حق کی آواز اٹھانی ہوگی- ہم اگر کچھ نہیں کر سکتے تو کم سے کم ہم اپنی آواز تو اٹھا سکتے ہیں- یے نہیں سہی تو ہم سڑک پر چلتے لوگوں کی مدد کر سکتے ہیں- کسی غریب کو ایک وقت کا کھانا کھلا سکتے ہیں- غریب بچوں کو گھر بیٹھے پڑھا سکتے ہیں- اپنی پوکٹ منی سے کچھ پیسے کسی غریب کو دے سکتے ہیں- جتنا ہم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اتنا تو کرٰیں ہمارے تھوڑا تھوڑا کرنے سے بھی بہت کچھ بدل سکتا ہے- یے نا سوچیں کے میرے ایک کے کرنے سے کیا ہوگا بلکے یے سوچیں کے اگر میری طرح سب ایسا کریں تو کتنا کچھ بدل سکتا ہے- اگر ہر کوئی یے سوچنے لگ جائے کے میرے ایک کے کرنے سے کیا ہوگا تو کچھ نہیں ہو سکتا- ہمیں اگر اپنے ملک سے پیار ہے تو ہمیں خود کو بدلنا ہوگا-       

Thursday, 26 February 2015

My First Blog Post..

Blogging is a very different and a good way of sharing what's in your mind .. Since I am new to blogging so I am still exploring it. My first blogging experience was kind of funny. As this blog is a part of my university assignment I had to make my post by all means. At that time my internet wasn't working so I went to my aunt's home that I can post my blog from there but there internet wasn't working either. Then I came back home and asked our neighbours if there internet is working but there internet too wasn't working. Time was passing and my blog was still not posted. Then my brother called his friend who lives in neighbourhood he gave his WiFi password and I did my post..
Now I think blogging is fun and a good way to express your self.

Wednesday, 25 February 2015

THINK ABOUT IT!!!





My innovation addresses the problem of lack of creativity in our students, it is just because of the conventional (RATTA) pattern







 It’s the simplest way of innovation in our class rooms by a method that for example, if everyday  5 periods occur in the  classroom , that from every class 1 period must be a period of creative writing the teacher will give different topics to the students on daily basis like 2 days from science , 2 days from the social life or general knowledge and one day the topics which belong   from the student  interest, and the rare thing is that the topic is random for the students no one know the topic  before the class except teacher , also the teacher selects everyday any 5 students to read and express some lines of their write-ups  in front of the class but the  students will have the freedom to write and explain their write-ups on both languages English or Urdu no barrier of language. Because in our society many people of us who have the talent but they scared, shy and hesitate to share their innovation with the people. 


It  produces the tremendous turned out in our education system, and the result of it we will discover the hidden talent of the country and it has so many other benefits like because of the random topics students will try to make the habits of book reading, because the daily write-ups needs general knowledge side by side sound knowledge of curricular books,  as a result of it every type of student will work hard on the curricular or syllabus  as well as try to get extra knowledge from news papers, books and other informative sources ,it is also helpful for the teachers that from the daily write-ups which  completely based on student creativity will tell different weaknesses and strengths of the students to the teachers that which section need to improve.

 in our education system which will led to different problems in our future, and also we are seeing the drawbacks of it, for instance now the trend of reading books almost vanished out from the society students only prefer to read the books of their course outline and avoid to read extracurricular books it is just because our education system not force and encourage the students to write from their own knowledge ,infect they provide  prepared answers  to the students and discourage the creative abilities of the students which results a student life time deprive from the creative abilities and always hesitate to express his feelings in different fields of life , he don’t have the confidence to write and speech anything by its own self.





Saturday, 14 February 2015

کرکٹ کا معرکہ ورلڈ کپ 

  14 فروری 2015 سے کرکٹ کا سب سے بڑا ایونٹ جوکے میگا ایونٹ کے نام سے جانا جاتا ہے شروع ہورہا ہے یعنی کے ورلڈ کپ 2015 کا آغاز ہے.
       کرکٹ کا ورلڈکپ ہر چار سال بعد ہوتا ہے یہ گیارہواں ورلڈ کپ ہے. کرکٹ کا یہ ایونٹ 1975 میں شروع ہوا. 1975 کا پہلا ورلڈ کپ ویسٹ انڈیز نے جیتا جو اس وقت دنیاۓ کرکٹ کے افق پر تھی اور کالی آندھی کے نام سے مشہور تھی. دنیا کی کوئی اور کرکٹ ٹیم اس کے مقابلے میں ٹھہر ہی نہیں سکتی تھی. تیسرا ورلڈ کپ جو 1983 میں ہوا. اس میں بھی ویسٹ انڈیز اور بھارت کی درمیان فائنل ہوا جس کا فائنل بھارت نے جیت لیا جو کے ایک حادثہ تھا اور بد قسمتی سے ویسٹ انڈیز ہار گئی. اس کے بعد ویسٹ انڈیز کا اثر کم ہونے لگا. 1992 میں پانچواں ورلڈکپ ہوا اس میں پاکستان کی ٹیم نے اس وقت کے کپتان عمران خان کی قیادت میں بہترین پرفارمنس کا مظاہرہ کیا اور قسمت نے ان کا ساتھ دیا الله کے فضل سے وو ورلڈ کپ پاکستان نے جیتا. پاکستان کے کپتان عمران خان نے ناخود بہترین پرفارمنس دی بلکے ان کا ساتھ تمام کھلاڑیوں نے خصوصاً جاوید میاںداد، انضمام الحق .وقار یونس اور وسیم اکرم نے دیا. ساتواں ورلڈکپ جو کے 1999 میں ہوا یہاں سے آسٹریلیا کی ٹیم کرکٹ کے آسمان پر ستارہ بن کر چمکی اور مسلسل تین ورلڈ کپ 1999، 2003 اور 2005 جیتے اور ویسٹ انڈیز کی طرح مسلسل 12 سال تک کرکٹ پر حکمرانی کرتی رہی. دسواں اور آخری ورلڈکپ 2011 میں ہوا جو کے انڈیا نے بہترین پرفارمنس سے جیتا.

       اب جو کے گیارہوں ورلڈ کپ شروع ہوگیا ہے اور اگلے دن یعنی 15 فروری 2015 کو پاکستان اور انڈیا کے درمیان میچ ہے. پاکستان اور انڈیا کے درمیان میچ میچ نہیں رہتا بلکہ ایک جنگ کی صورت اختیار کرلیتا ہے جوکہ صحیح نہیں ہے. پاکستان اور انڈیا کے میچ کو فائنل سے پہلے فائنل کہا جارہا ہے. تاریخ ہمیں بتاتی ہے کے ورلڈ کپ کے میچز میں پاکستان آج تک انڈیا کو شکست نہیں دے سکا ہے امید ہے کے اس مرتبہ جب کے ہماری ٹیم اتنی زیادہ مضبوط نہیں ہے اور تجربے میں بھی کمی ہے مگر کھلاڑیوں کے جوش و جذبہ اور قوم کی دعاؤں سے امید ہے کے پاکستان فاتح ہوگا اور انڈیا کی بظاہر طاقتور ٹیم کو شکست فاش دے گا.
     یوں تو اس ایونٹ میں دنیا نے ساؤتھ افریقہ کی ٹیم کو فیوریٹ قرار دیا ہے اور اس کے بعد آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کا نمبرآتا ہے. لیکن کرکٹ کا کھیل کسی بھی پیشنگوئی سے بالاتر ہے اس لئے یہ کرکٹ بائی چانس کہلاتا ہے. میچ والے دن جو ٹیم اچھا پرفارم کرگئی چاہۓ وہ چھوٹی ہو یا بڑی وہ جیت جائے گی.
     امید ہے کے کرکٹ کا یہ رںگارنگ میلہ بڑی دلچسپی کا باعث بنے گا اور کرکٹ کے دیوانے تقریباً ڈیرھ مہینے تک اس میں مگن رہیں گے اور اپنی اپنی پسندیدہ ٹیموں کی جیتنے کی امید لے کر ان میچوں کو بڑے ذوق و شوق سے دیکھیں گے اور اس بات سے ہٹ کر کرکٹ کے لورز دنیاۓ کرکٹ کے بہت بڑے بڑے اسٹارز کو کھیلتے ہوۓ دیکھیں گے. اس رنگارنگ میلے کا اختتام 29 مارچ 2015 کو آسٹریلیا کے میلبرن کرکٹ گراؤنڈ میں ہوگا. 

Friday, 13 February 2015

 شازمینہ شہوار

موبائل فونز


آج کےاس ترقی یافتہ دور میں موباٰئل فونز کا استعمال اتنا عام ہوچکا ھے کے کوئی بھی ٹیکنالوجی کی اس سوغات سے محروم نھیں پھر چاہے آپ باٰئیک پر ہوں یا کار میں ہر ہاتھ میں یہ سوغات پاٰئی جاتی ھے اور کٰیوں نہ ہو جب آپکو میسیجز اورکال کے اتنے سستے پیکیجز ملیں گیں تو اس کا استعمال آپ نہیں کرینگے تو اور کون کرے گا اب یہٰی دیکھ لیں 
تھری جی پیکیجز نے لوگوں کی زندگیوں کو اتنا آسان بنا دیا ھے کہ: 

بقول شاعر :
یوں دل کی بات کہنا تو مشکل ھے
- فراز-
اس لیئے آپ زونگ لیں اور سب کہہ دیں

یوں تو پہلے ھمارے دن کا آغاز عام طور پر چائے یا کافی کے ایک کپ سے ہوتا تھا لیکن آج صبح اٹھتے ہی ہر کوٰئی پہلی فرصت میں اپنا موبائل دیکھنا پسند کرتا ھے اور تو اور موبائل فونز میں بلوٹوتھ کسی تحفے سے کم نہیں جس کی مدد سے آپ اپنی من پسند چیزیں ایک دوسرے سے با آسانی حاصل کر سکتے ہیں- جدید موبائل کی صنعت نے جہاں لوگوں کی زندگیوں میں ایک انقلاب برپا کیا ھے وہیں اسکے مختلف استعمالات بھی دیکھنے کو ملتے ہیں اٌن میں پورٹیبل میڈیا ، ویب براوزر اور اسمارٹ فونز بھی شامل ہیں- 

  " یعنی جتنا موبائل مہنگا ہوگا اتنا ہی پبلک میں جیب سے باہرہوگا "

اب دیکھنا یہ ھے کے موبائل فونز کا روز بروز بڑھتا ہوا رجھان لوگوں کی زندگیوں میں اور کیا کیا تبدیلیاں لے کر آنے والا ھے یہ تو خیر آنے والا وقت ہی بتائے گا-