Friday, 30 January 2015

 پولیتھین  بیگز 

گندگی  اور بیماریوں کا سبب 



     پاکستان میں پلاسٹک کے بنے ہوۓ شاپنگ بیگز جنہیں پولیتھین بیگ کہا جاتا ہے. پولیتھین بیگ آنے سے قبل جب لوگ گھرکا سودا یا سامان لینے کے لئے بازار جاتے تھے تو اپنے ساتھ کپڑے کا تھیلا یا کھجور کے پتوں سے بنی ہوئی ٹوکری لے کر گھر سے نکلتے تھے. کپڑے  کے تھیلے مارکیٹ میں سلے سلاۓ بھی ملتے تھے اور خواتین گھروں میں خود بھی سی لیتی تھی.  
   مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد پاکستانی عوام کو ناریل، جھاڑو ، پان اور دیگر اشیاء کی قلت کا سامنا ہوا وہاں ملک میں کاغذ کی بھی قلت پڑگئ. کاغذ بنانے کے کارخانے مشرقی پاکستان میں تھے وہاں سے کاغذ آنا بند ہوگئے. ان حالات میں کاروباری مفاد پرست لوگوں نے پولیتھن بیگز بنانے شروع کئے گویا جیسے انقلاب آگیا اور لوگ بھی اس کے نقصانات سے بے خبر بہت خوش اور مطمئن تھے کے اب کوئی برتن یا بیگ لئے بغیر دودھ، تیل اور دہی بھی گھر میں آنا شروع ہوگئی. پولیتھین شاپنگ بیگز پٹروکیمیکل مرکبات سے حاصل ہونے والے مادے سے بنتے ہیں. اس پر موسمی تغیرات اثرانداز نہیں ہوتے یہ ایک غیر حل پذیر مادہ ہے جو طویل عرصے تک اپنی اصل حالت میں ہی رہتا ہے. سائنسدانوں کے مطابق ان تھیلیوں کے گلنے کے لئے اگر مٹی میں دبی ہو تو کم از کم ایک ہزار سال اور اگر پانی میں پڑے رہے تو تقریباً ٤٥٠٠ سال کا عرصہ درکار ہوگا. اپنی ان منفی خصوصیات کی وجہ سے پولیتھین بیگز پوری دنیا کے ماحول کی لئے سنگین خطرہ ثابت ہورہے ہیں. وزن میں ہلکا ہونے کے باعث یہ بیگز ہوا کے ساتھ اڑتے رہتے ہیں اور نالیوں اور سیوریج سسٹم تک پینچ کر اسے بند کر دیتے ہیں. ان بیگز سے ماحول کے نقصان کو بچانے کے لئے سمجھدار قوموں نے شاپنگ بیگز کی استمعال پر پابندی عائد کردی ہے اور کئی ملکوں میں دکان داروں کو پابند کیا گیا ہے کے یکم جولائی ٢٠١٥ تک اس کا متبادل تلاش کرلیں. بنگلہ دیش میں ١٩٨٨ اور ١٩٩٨ میں آنے والا تباہ کن سیلاب کا ایک اہم سبب ان بیگز کو قرار دیا جاتا ہے جس کی وجہ سے ملک کا ڈرینج  سسٹم فیل ہوگیا اور سیلابی کیفیت پیدا ہوگی.
    بد قسمتی سے ہمارے ملک پاکستان میں اور دوسرے مسائل کی طرح اس مسلے پر بھی جوں نہی رنگتی جب کے گزشتہ چند برسوں سے کراچی میں مون سون کے موسم میں ہونے والی معمولی بارش سے سیلاب کی صورتحال پیدا ہوجاتی ہے. اس کا سبب بھی یہی شاپنگ بیگز ہے جو گٹر اور نالیوں میں پھنس کر سوریج سسٹم کے بلاک کردیتے ہیں. جگہ جگہ گٹر ابل جاتے ہیں جو شہر کے نظام کو مفلوج کردیتے ہیں. اصولاً تو کسی بھی نئی ٹیکنالوجی کو استمعال میں لانے سے قبل اس کی ماحولیاتی اور سماجی اثرات کے بارے میں جامع تحقیق ہونی چاہیے مگر ہمارے حکومت کے کسی بھی محکمے یا وزارت نے اس نوعیت کی تحقیق کی ضرورت محسوس نہیں کی. آج بھی آپ کچھ بھی خریدلیں آپ کا واسطہ انہیں شاپنگ بیگز سے پڑے گا.

5 comments: