Thursday, 5 February 2015

آن لائن صحافت آنے والے وقتوں میں



جہاں بات کی جاتی ھے آن لائن صحافت کی تو وہ کسی انقلابی دنیا سے کم نہیں- آج کل ہر کوٰئی انٹرنیٹ پہ آن لائن ویب سائٹس کی دنیا کا حصہ بننا چاھتا ھے - آن لائن صحافت معاشرے میں تبدیلی کے ساتھ  ساتھ  ٹیکنالوجی کی بھی عکاسی کرتی ھے تقریباّ ایک سوملین افراد ولڈ ویب تک رساٰئی رکھتے ہیں اور اس میں دن بہ دن اظافہ بھی ہوتا جا رہا ھے

سوشل میڈیا معلومات حاصل کرنے کے روایتی طریقوں کے مقابلوں میں سب سے تیزھے جو کے آنے والوں وقتوں میں صحافیوں کا بہترین ہتیار بنتا معلوم ہوتا ھے اور پھر چاھے آپ دنیا کےکسی بھی کونے میں  موجود ہوں ہر قسم کی معلومات سےبآآسانی مستفید ہوسکتے ہیں - ییہی نہیں آن لائن صحافی اب سوشل ویب سائٹس پہ بھی اپنی خبروں کو ملٹی میڈیا کے زریعےاس قدر دلچسپ بنا کر پیش کر سکیں گے کہ پڑھنے والا پڑھے بغیر رہ ہی نہیں پائے گا اور تو اور مستقبل میں آن لائن صحافت میں بہت سے چیلنجز دکھائی دیتےھیں جس میں ایک سب سے بڑا چیلنج شھری صحافی کے طور پر سامنے آئےگا جو کچھ یوں ہوگ کہ: ٹیکنالوجی کی بہت سی جدیدیت کے ساتھ ساتھ ہر شہری صحافی اپنے اپنے بلاگ پوسٹ اور ٹوئٹز کی مدد سے آن لائن صحافت میں اپنا اہم کردار ادا کرتے نظر آئیں گے اور یہ صحافت مستقبل کی ترقی میں کس حد تک کامیاب ہوسکتی یے یہ کوئی نہیں جان سکتا

"FUTURE OF ONLINE JOURNALISM" (complementary post)

              "MEDIA MUST MOVE WITH THE TIMES

         
  
     
      The era in which we are living in , is as an era of science and technology where every day technology is updated in every field of life to make the life easy and comfortable.

     Similarly in a filed of media now social media is considered as the main and essential part of a society, because it's a very unique thing that every industry in the world makes those type of products which we can use and easily seen, but the rare thing is that media is also a industry which makes product in a shape of "message" in different ways, the content we seen on our television sets, the news we listen in our radio and the news we read in a news paper all are types of messages.
            

     But in a modern age in-spite of all that traditional media internet  brought a tremendous turned out in a human life, it's information is permanent , easy to access, interactive and also the author have unlimited space to gives unlimited information to their audiences also aspect of convergence is interesting for the viewers of social media.
     
     In future the life of a man will become move busy in all over the world, Therefore in that case internet is a easy way to get different type of information through gadgets, smart phones, laptop and etc , at any time , any where . In future the responsibility of online journalist will become more tough, because people will more prefer to use it as compare to traditional media.



     At the end I want to share some drawbacks of online journalism, because every thing has it’s bad and good sides, Therefore in online journalism sometimes we can't evaluate the credibility of a journalists, proper source also biased point of views and ethical questions are also seen.

Online Journalism And My Opinion



Today the world is growing fast and thanks to the technology everything is now on our finger tips. Every knowledge we want is on our finger tips. Online journalism has important role in it. Now a days in this busy life no one has time to sit in front of T.V and wait for news of their interest , rather they just go online to check the latest updates. Now every famous news channel have their applications which can be downloaded in our smart phones and keep us aware of new happenings. more over now everyone can follow their favorite news channels and journalists on social media this keeps everyone updated with the late test news and follow-ups on the go.. Now everyone can access the news of their interest any time anywhere.  On T.V we see new news every time but online we have the access to older news stories. If any big event happens we can’t have per minute follow-ups like we can have on internet. T.V has censor problems but we can see any news on internet without censor. I think in future people will rely more on online journalism as technology is growing fast...


Friday, 30 January 2015

 پولیتھین  بیگز 

گندگی  اور بیماریوں کا سبب 



     پاکستان میں پلاسٹک کے بنے ہوۓ شاپنگ بیگز جنہیں پولیتھین بیگ کہا جاتا ہے. پولیتھین بیگ آنے سے قبل جب لوگ گھرکا سودا یا سامان لینے کے لئے بازار جاتے تھے تو اپنے ساتھ کپڑے کا تھیلا یا کھجور کے پتوں سے بنی ہوئی ٹوکری لے کر گھر سے نکلتے تھے. کپڑے  کے تھیلے مارکیٹ میں سلے سلاۓ بھی ملتے تھے اور خواتین گھروں میں خود بھی سی لیتی تھی.  
   مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد پاکستانی عوام کو ناریل، جھاڑو ، پان اور دیگر اشیاء کی قلت کا سامنا ہوا وہاں ملک میں کاغذ کی بھی قلت پڑگئ. کاغذ بنانے کے کارخانے مشرقی پاکستان میں تھے وہاں سے کاغذ آنا بند ہوگئے. ان حالات میں کاروباری مفاد پرست لوگوں نے پولیتھن بیگز بنانے شروع کئے گویا جیسے انقلاب آگیا اور لوگ بھی اس کے نقصانات سے بے خبر بہت خوش اور مطمئن تھے کے اب کوئی برتن یا بیگ لئے بغیر دودھ، تیل اور دہی بھی گھر میں آنا شروع ہوگئی. پولیتھین شاپنگ بیگز پٹروکیمیکل مرکبات سے حاصل ہونے والے مادے سے بنتے ہیں. اس پر موسمی تغیرات اثرانداز نہیں ہوتے یہ ایک غیر حل پذیر مادہ ہے جو طویل عرصے تک اپنی اصل حالت میں ہی رہتا ہے. سائنسدانوں کے مطابق ان تھیلیوں کے گلنے کے لئے اگر مٹی میں دبی ہو تو کم از کم ایک ہزار سال اور اگر پانی میں پڑے رہے تو تقریباً ٤٥٠٠ سال کا عرصہ درکار ہوگا. اپنی ان منفی خصوصیات کی وجہ سے پولیتھین بیگز پوری دنیا کے ماحول کی لئے سنگین خطرہ ثابت ہورہے ہیں. وزن میں ہلکا ہونے کے باعث یہ بیگز ہوا کے ساتھ اڑتے رہتے ہیں اور نالیوں اور سیوریج سسٹم تک پینچ کر اسے بند کر دیتے ہیں. ان بیگز سے ماحول کے نقصان کو بچانے کے لئے سمجھدار قوموں نے شاپنگ بیگز کی استمعال پر پابندی عائد کردی ہے اور کئی ملکوں میں دکان داروں کو پابند کیا گیا ہے کے یکم جولائی ٢٠١٥ تک اس کا متبادل تلاش کرلیں. بنگلہ دیش میں ١٩٨٨ اور ١٩٩٨ میں آنے والا تباہ کن سیلاب کا ایک اہم سبب ان بیگز کو قرار دیا جاتا ہے جس کی وجہ سے ملک کا ڈرینج  سسٹم فیل ہوگیا اور سیلابی کیفیت پیدا ہوگی.
    بد قسمتی سے ہمارے ملک پاکستان میں اور دوسرے مسائل کی طرح اس مسلے پر بھی جوں نہی رنگتی جب کے گزشتہ چند برسوں سے کراچی میں مون سون کے موسم میں ہونے والی معمولی بارش سے سیلاب کی صورتحال پیدا ہوجاتی ہے. اس کا سبب بھی یہی شاپنگ بیگز ہے جو گٹر اور نالیوں میں پھنس کر سوریج سسٹم کے بلاک کردیتے ہیں. جگہ جگہ گٹر ابل جاتے ہیں جو شہر کے نظام کو مفلوج کردیتے ہیں. اصولاً تو کسی بھی نئی ٹیکنالوجی کو استمعال میں لانے سے قبل اس کی ماحولیاتی اور سماجی اثرات کے بارے میں جامع تحقیق ہونی چاہیے مگر ہمارے حکومت کے کسی بھی محکمے یا وزارت نے اس نوعیت کی تحقیق کی ضرورت محسوس نہیں کی. آج بھی آپ کچھ بھی خریدلیں آپ کا واسطہ انہیں شاپنگ بیگز سے پڑے گا.

Thursday, 29 January 2015


شازمینہ شہوار
ذراثع ابلآغ عامہ

: لکھا کیسے جاتا ھے

 لکھنا ایک فن ھے- اور اسکا تعلق خیالات سے ہو تا ھے جب کوئی لکھنے کی مشق کرتا ھے تو گویا وہ اپنےلکھنےکےانداز کو بھتر کرتا ھے اب یہ آپ پر  منحصر ھے کہ آپ کاغز اور قلم سے کتنی دلچسپی رکھتےان دونوں چیزوں سےآپ کا رشتہ جتنا مظبوط ھوگا تحریر اتنی ھی نکھر کر آپ  کے  سامنےآےٌ گی- یوں تو کچھ لوگوں میں لکھنے کی بے پنہاں صلاحیت موجود ھوتی ھے جسے ھم خداداد صلاحیت بھی کہتےہیں جو ھر کسی میں نہیں ہوتی لیکن کوئی انسان اگر لکھنے مشق  کرتا رھے تو عنقریب ھی وہ اپنے لکھنے کے عمل کو بہتر سے بہتر بنا سکتاھے کیونکہ لکھتےلکھتے ھی انسان لکھنا سیکھتا ھے  ـ                                                                                                                                                                       لکھنے کے اصول


پڑھیے

                                                         
 لکھنے کے عمل کو بھتر بنانے  کے لیے مختلف مصنفین کو  پڑھیں تاکہ آپ کے خیالات میں وسعت پیدا ھو اور آپکولکھنے میں مدد ملےـ 
  وہ پڑھیں جس پر آپ لکھنا چاھتےھیں اگر آپ افسانے یا ناول کے شایٌقین ھیں تو مشھور آوازوں تک رسایٌ حاصل 
کرنے کی کوشش کریں مٖثلاّ: ہاشم ندیم، عمیرہ احمد، فرحت اشتیاق، ماہا ملک ، عشنا کوثر سردار اور سلمی یونس- اپنی روزانہ کی مصروفیات میں سے صرف بیس منٹ ھی کیوں نہ ہوں سونے سے پہلے پڑھیں آپ واقعی ایک نا قابل یقین تبدیلی محسوس کریں گے ـ




  لکھنے کے لیےٌ جگہ تلاش کریں :                                                                                                                                                                                                                         لکھنے کے لیےٗ مختلف جگہوں کا انتخاب کریں اور پھر جانیں کہ کس جگہ پر آپ بہت اچھا لکھ رھے ہیں، کہاں پر آپ کی توجہ زیادہ مرکوز ھے، کیا یہ کسی لا ٗبریری کے کونے میں ھے ، ایک مصروف کافی شاپ میں ، گھر میں آپکی میز پر یا پھر کسی پارک میں؟


اگر مختلف مقامات پہ آپ کا موڈ بہت اچھا ہوجاتا ھے اور آپ بہت بہتر لکھ سکتے ھیں تو یہ تبدیلی واقعی کارگر ثابت ہوگی ـ


: لکھنے کے لیےّایک طریقہٌ کار منتخب کریں

لکھنے کے لیےٌ بھی مختلف چیزیں درکار ہوتی ہیں اسلٌیے اس کا انتخاب کرنا بھی ظروری ھے یعنی کیا آپ کو لکھنےکے لیٌے قلم سے کاغز کا رشتہ درکار ھے یا پھر آپ کو اپنا لیپ ٹاپ اس کے لیٌے زیادہ موٌثر لگتا ھے؟
ہمیشہ پّرسکون جگہ پر لکٰھیں جہاں آپ کسی بھی پریشانی اور شور شرابے سے مبراہو کر لکھ سکیں ـ


: پّرمغزخیالات

اپنے آٗیٗڈیاز کو ہمیشہ کلیر رکھیں کے آپ کیا لکھنا چاہتے ھیں؟ کیوکہ ایک اچھی تحریر سے پہلے ایک خیال ہمیشہ ھے اور امکانات لامتنا ھیں- آپ ریاظی کے بارے میں بھی لکھ سکتے ہیں، آپ اپنے بارے میں بھی لکھ سکتے ھیں- کچھ ایسا نھیں ھے جو آپ نا لکھ سکتے ہوں- کوشش کریں ان سولات کے جوابات کو مدنظر رکھتے ہوےٌ لکھین-
الف)- آپکی کہانی میں کیا ہونا چاہیے؟)
ب)ـ اس کا عنوان کیا ہوگا ؟) 
پ)ـ اس میں کونسے کردار ہونگے ؟)
ت)ـ اس میں کس طرح کے پڑھنے والے دلچسپی رکھتے ہونگے ؟)




: تحقیق

اگر آپ کسی موضوع پر لکھ رہے ہیں اور اس میں مہارت نہیں رکھتے اور چاھتے ہیں کے آپکے عنوان کی معلومات حقیقت پر مبنی ہوں تو پہلے ان معلومات کی اچھی طرح تحقیق کرلیں یا پھر کسی سے دریافت کرلیں ـ
یاد رکھیں ! ۔۔ آپ انٹرنیٹ کی مدد سے یا آن لآثن ویب ساثٹس کے ذریعے بھی رزلٹ معلوم کر سکتے ہیں ـ 




: نوٹ

خبردار رہیں جو معلومات آپ نے آن لآثن حاصل کیں ہیں وہ درست ہیں بھی کے نہیں ـ خاص طور پر جب آپ حقاثق پر مبنی واقع تحریر کر ریے ہوں ـ انٹرنیٹ یا دیگر ویب ساثٹس پر اعتماد بھی کسی خطرے سے خالی نہیں ـ کوشش کریں کے کتابوں،اخبارات اور تحقیق شدہ کتابوں سے مدد حاصل کرتے ہوےٗ اس کی تہہ تک پہنچیں کیونکہ یہ اسکے مقابلے میں ذیادہ محفوظ اور قابل اعتماد ہیںـ


Wednesday, 28 January 2015

"سیلفی"
ایک سیلفی تو بنتی ہے یارJ

اپنےاسمارٹ فون یا کیمرے سے لی گئ اپنی خود کی تصویر کو سیلفی کہتے ہیں- اپنی خود کی تصویر کھینچنا اور اسے کسی بھی سماجی ویب سائٹ پر پوسٹ کرنا سیلفی کہلاتا ہے- آج کل تقریباً ہر کوئی سیلفی لیکر اسے فیس بک وغیرہ پر پوسٹ کرکے لوگوں اور اپنے دوستوں سے طرح طرح کے کمنٹس اور لائک وصول کرتا ہےـ
               یہی نہیں بلکے کچھ لڑکے لڑکیاں تو سیلفی کے اتنے شوقین ہوتے ہیں کے واش روم جیسی جگاہوں پر بھی سیلفی لے لیتے ہیں اور ہر دن انکی ایک نت نئ سیلفی فیس بک پر پوسٹ ہوجاتی ہے-
               اگر دیکھا جا ئے تو لڑکوں کے مقابلے میں زیادہ تر لڑکیاں سیلفی کی شوقین ہوتی ہیں- صبح اٹھتے کے ساتھ ہی اور رات میں بستر میں لیٹے ہوئے بھی سیلفی لیتی ہیں شدید نیند ہی کیوں نا آرہی ہو پر "ایک سیلفی تو بنتی ہے" اور یے جملا اتنا مشہور ہوگیا ہے کے اب بہت سے لڑکے لڑکیوں کی زبان پر موجود ہے چاہے وہ شادی میں ہوں یا پکنک پر ہوں یا پھر اپنے دوستوں کے ساتھ یے بول کر سیلفی لے لی جاتی ہے کے "ایک سیلفی لینا تو بنتی ہے یار"
               کچھ لوگوں کا خیال ہے کے جو کسی دوسرے شخص کے موجود ہونے کے باوجود بھی بار بار خود ہی اپنی تصویر کھینچتا رہے یہی سوچ کر کے یے والی اچھی نہیں آئی دوبارہ سے ایک اور سیلفی لینی چاہیے تو اسے پاگل پن بھی سمجھا جاتا ہے


Tuesday, 27 January 2015

Lilly flowers

I am sharing a story that I read in a book long time ago.These are not exact words I am sharing it in my words.. I hope my readers find it interesting.. The story goes like this....
Once there was a bus going somewhere. In that bus, there was an old man sitting with a bunch of white lillies in his lap. Infront of him a girl was sitting who was constantly looking at those flowers. The old man noticed this girl and asked her if she like these flowers. The girl told the old man that white lillies ar her favourite flowers. Then the old man told the girl that his wife loves white lillies too and he often take these to her and she gets happy to see her favourite flowers. He told the girl specilly on there aniversary how he used to fill the whole house with these flowers ..
While they were talking the old man'n destination came. While getting out of the bus he had a kind of happiness on his face an he threw those flowers on the girl's lap and said keep them from   my wife..
The girl got surprised to see those flowers in her lap and asked the old man weren't these flowers for your wife.? The old man said she will be happy to know that i've given these to you. And he gott out of the bus..
The girl wanted to thank him for his gesture but she got almost shoked to see from the window  that the old man was heading towards the cemitary .. Those lilly flowers were for his dead wife....!!